اسلام آباد۔۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کی غذائی برآمدات میں تشویشناک حد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران فوڈ ایکسپورٹس میں مجموعی طور پر 40.29 فیصد کی بڑی کمی ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 میں غذائی برآمدات کا حجم 23 ارب 64 کروڑ ڈالرز سے زائد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے یعنی جولائی تا دسمبر 2024 میں فوڈ ایکسپورٹس 39 ارب 59 کروڑ 97 لاکھ ڈالرز تھیں۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق صرف دسمبر 2025 میں فوڈ ایکسپورٹس 49.56 فیصد کمی کے بعد 4 ارب 6 کروڑ ڈالر تک محدود رہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چھ ماہ کے دوران چاول کی برآمدات میں 49.90 فیصد اور سبزیوں کی برآمدات میں 36.80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح جولائی تا دسمبر باسمتی چاول کی برآمدات میں بھی 35.86 فیصد کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔
مزید بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران آئل سیڈز اور نٹس کی برآمدات میں 63.78 فیصد جبکہ مصالحوں کی برآمدات میں 5.39 فیصد کمی ہوئی۔ تاہم کچھ شعبوں میں بہتری بھی سامنے آئی، جہاں پھلوں کی برآمدات میں 9.71 فیصد اور گوشت و گوشت سے بنی مصنوعات کی برآمدات میں 6.40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2024 کے مقابلے میں دسمبر 2025 میں چاول کی برآمدات 52.68 فیصد اور باسمتی چاول کی برآمدات 21.93 فیصد کم ہوئیں۔ اسی ماہ سبزیوں کی برآمدات میں 21 فیصد اور تمباکو کی برآمدات میں 30.84 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دسمبر 2025 میں مصالحوں کی برآمدات 23.34 فیصد جبکہ آئل سیڈز اور نٹس کی برآمدات 57.28 فیصد کم ہوئیں۔ تاہم نومبر کے مقابلے میں دسمبر 2025 کے دوران پھلوں کی برآمدات میں 82.28 فیصد نمایاں اضافہ دیکھا گیا