غیر اخلاقی سرگرمیوں کی روک تھام: طالبان نے شمالی افغانستان میں انٹرنیٹ بند کر دیا

طالبان نے شمالی افغانستان میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی ہے، جسے حکام نے “غیر اخلاقی سرگرمیوں کی روک تھام” کا جواز قرار دیا ہے۔ صوبائی حکومت کے بیانات کے مطابق یہ فیصلہ بدھ کو کیا گیا۔

یہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 2021 سے پہلی بار ہے کہ انٹرنیٹ پر اس نوعیت کی پابندی لگائی گئی ہے۔ اس سے قبل طالبان لڑکیوں کو ہائی اسکول جانے سے روکنے اور خواتین کو مختلف شعبوں میں کام کرنے سے منع کرنے جیسے اقدامات کر چکے ہیں۔

پابندی شمالی افغانستان کے پانچ صوبوں پر نافذ کی گئی ہے جن میں قندوز، بدخشان، بغلان، تخار اور بلخ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ پابندی فائبر آپٹک انٹرنیٹ کنیکشن پر ہوگی، تاہم موبائل ڈیٹا کے ذریعے انٹرنیٹ دستیاب رہے گا۔

صوبائی حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ تمام فائبر آپٹک کنیکشن منقطع کر دیے گئے ہیں تاکہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکا جا سکے، تاہم “ضروری ضروریات” کے لیے متبادل فراہم کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد گھروں، دفاتر اور کاروباروں میں انٹرنیٹ منقطع ہو گیا ہے۔

سابق امریکی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے اس فیصلے کو “لغو” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر فحاشی اصل مسئلہ ہے تو اسلامی دنیا کے کئی ممالک کی طرح فلٹرنگ کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

طالبان نے گزشتہ برس باضابطہ طور پر اخلاقی ضوابط کا ایک طویل سلسلہ نافذ کیا تھا، جن میں خواتین کو چہرہ ڈھانپنے اور مردوں کو داڑھی رکھنے کا پابند بنانا اور گاڑیوں میں موسیقی بجانے پر پابندی شامل ہے۔

خواتین کی آزادی اور اظہار رائے پر طالبان کی قدغنوں کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور غیر ملکی حکومتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x