عبدالجبار
لاہور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہرین جنگلات کا کہنا ہے کہ یوکلپٹس اور پاپلر جیسی غیر مقامی درختوں کی اقسام کی کاشت معاشی اہمیت اور کسانوں میں مقبولیت کے باوجود پاکستان میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر دبا ڈال سکتی ہے، مقامی ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے اور حیاتیاتی تنوع میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بعض غیر مقامی درختوں سے وابستہ بڑے ماحولیاتی خدشات میں زیادہ مقدار میں پانی کا استعمال خاص طور پر اہم ہے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی زیرِ زمین پانی کے ذخائر دبا کا شکار ہیں ان درختوں کے نمایاں اثرات میں زیادہ پانی کا استعمال اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی شامل ہو سکتی ہے۔۔ یوکلپٹس جیسی اقسام ایسے کیمیائی اثرات بھی پیدا کر سکتی ہیں جو ان کے نیچے اور اردگرد موجود دیگر پودوں کی نشوونما محدود کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں قریبی ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ ان درختوں کے اثرات مقامی حیوانات، بالخصوص پرندوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں کیونکہ بعض غیر مقامی درختوں کی جسمانی ساخت مقامی درختوں کے مقابلے میں پرندوں کے گھونسلے بنانے اور پناہ لینے کے لیے کم موزوں ہوتی ہے۔ ان درختوں کی ساخت ایسی ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر پرندوں کی اقسام نہ تو ان پر گھونسلے بنا سکتی ہیں اور نہ ہی وہاں پناہ حاصل کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں پرندوں کی تعداد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ قدرتی ماحولیاتی توازن میں خلل نقصان دہ حشرات اور پودوں کی بیماریوں میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے، جس سے زرعی پیداوار اور زرعی زمین سے طویل مدت میں حاصل ہونے والے معاشی فوائد متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاپلر اور یوکلپٹس اپنی تیز رفتار نشوونما، زیادہ شرحِ بقا اور بہتر معاشی منافع کے باعث کسانوں کے لیے پرکشش ہیں۔ تاہم ان کے تجارتی فوائد کو مقامی درختوں، آبی وسائل اور قدرتی ماحولیاتی نظام پر ممکنہ اثرات کے ساتھ سامنے رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں مختلف ماحولیاتی خطوں میں 430 سے زیادہ مقامی درختوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جو شمالی پہاڑی علاقوں کے بلند و بالا جنگلات سے لے کر جنوبی خشک میدانوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ نمایاں مقامی اقسام میں دیودار، شیشم، نیم، کیکر اور املتاس شامل ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے کئی دہائیوں سے موسمِ بہار اور مون سون کے دوران شجرکاری مہمات کے نتیجے میں ملک میں مجموعی طور پر درختوں کا رقبہ بڑھا ہے۔تاہم قدرتی جنگلات، بالخصوص شمالی اور شمال مغربی پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں میں موجود جنگلات بدستور جنگلات کی کٹائی اور تنزلی کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ان ماحولیاتی خدشات کے پیشِ نظر پنجاب محکمہ جنگلات مقامی ماحول کے لیے موزوں اور طویل مدت تک بہتر طور پر زندہ رہنے والی درختوں کی اقسام کی شجرکاری کی حوصلہ افزائی پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔پنجاب محکمہ جنگلات کے مطابق مقامی درختوں کی اقسام اس لیے اہم ہیں کہ وہ عموما مقامی ماحولیاتی حالات سے بہتر طور پر مطابقت رکھتی ہیں اور حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کی مضبوطی میں کردار ادا کرتی ہیں۔ مناسب مقامات پر پھل دار اور مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے پودوں کی شجرکاری بھی فروغ دی جا رہی ہے، بالخصوص زرعی جنگلات اور عوامی شمولیت کے منصوبوں کے ذریعے۔ پنجاب کے شجرکاری پروگرام نے حوصلہ افزا پیش رفت کی ہے اور مالی سال 2025-26 کے دوران ترقیاتی اور غیر ترقیاتی پروگراموں کے تحت تقریبا 4 کروڑ 11 لاکھ 92 ہزار پودے لگائے گئے۔ان شجرکاریوں میں تقریبا 46,216 ایکڑ رقبے پر مربوط جنگلات، نہروں کے کنارے 4,069 میل طویل شجرکاری اور ریلوے و سڑکوں کے کنارے 899 کلومیٹر طویل شجرکاری شامل ہے،دھند میں کمی کے عملی منصوبے 2026-27 کے تحت محکمہ جنگلات نے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے سالانہ 1 کروڑ 40 لاکھ 68 ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔منصوبے کے تحت تقریبا 8,970 ایکڑ رقبے پر مربوط شجرکاری، نہروں کے کنارے 5,374 میل طویل شجرکاری اور ریلوے و سڑکوں کے کنارے 900 کلومیٹر طویل شجرکاری شامل ہے۔ موسمِ بہار اور مون سون کے دوران نئے جنگلات قائم کرنے کا کام بھی کیا جائے گا۔ماہرین جنگلات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں درختوں کے رقبے میں اضافہ بدستور اہم ہے، تاہم شجرکاری میں استعمال ہونے والی درختوں کی اقسام بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں۔ ماحول سے مطابقت رکھنے والی مقامی اقسام پر زیادہ انحصار، تجارتی اہمیت رکھنے والے درختوں کے محتاط انتخاب کے ساتھ، اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتا ہے کہ جنگلات میں اضافے کے اقدامات زیرِ زمین پانی کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور مضبوط قدرتی ماحولیاتی نظام کے فروغ کے ساتھ ساتھ معاشی فوائد بھی فراہم کرتے رہیں۔