واشنگٹن — وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے جمعرات کی دوپہر وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں ان کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی جس میں خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم کے دفتر سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق، شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو ’’امن کا علمبردار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا بھر میں تنازعات کے خاتمے کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ اور فیصلہ کن قیادت کو سراہا جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے خطرات کم ہوئے اور بڑی تباہی ٹل گئی۔
مشرق وسطیٰ اور غزہ پر تبادلہ خیال
ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں اور مسلم دنیا کے اہم رہنماؤں کو نیویارک مدعو کرنے کی پیش رفت کو سراہا۔ شہباز شریف نے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں پائیدار امن قائم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کی اپیل
وزیراعظم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان رواں برس طے پانے والے ٹیرف معاہدے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے زرعی، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
انسداد دہشت گردی تعاون
علاقائی سلامتی پر گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے انسداد دہشت گردی کے تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سلامتی اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔
صدر ٹرمپ کو دورہ پاکستان کی دعوت
ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دی اور کہا کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق پاکستان تشریف لائیں۔