عبدالجبار
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں کپاس کی پیداوار 15 ستمبر 2026 تک سالانہ بنیاد پر 19.17 فیصد بڑھ کر 23 لاکھ 88 ہزار 682 گانٹھوں تک پہنچ گئی جبکہ پنجاب اور سندھ دونوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں کپاس کی زیادہ پیداوار ریکارڈ کی گئی۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مرتب کردہ بیان کے مطابق گزشتہ سال اسی تاریخ تک ملک میں 20 لاکھ 4 ہزار 384 گانٹھیں پہنچ چکی تھیں۔ ۔ملک بھر میں 22 لاکھ 7 ہزار 183 گانٹھوں سے روئی تیار کی جاچکی تھی جبکہ مجموعی فروخت 21 لاکھ 27 ہزار 893 گانٹھوں تک پہنچ گئی۔ ٹیکسٹائل ملوں نے 20 لاکھ 35 ہزار 93 گانٹھیں خریدیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں خریدی گئی 16 لاکھ 52 ہزار 204 گانٹھوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں جبکہ برآمد کنندگان اور تاجروں نے 92 ہزار 800 گانٹھیں خریدیں۔پنجاب میں کپاس کی آمد 8 لاکھ 60 ہزار 942 گانٹھیں رہی جو گزشتہ سال کی 6 لاکھ 90 ہزار 254 گانٹھوں کے مقابلے میں ایک لاکھ 70 ہزار 688 گانٹھیں یا 24.73 فیصد زیادہ ہے۔ صوبے میں 7 لاکھ 88 ہزار 261 گانٹھوں سے روئی تیار کی گئی اور 7 لاکھ 48 ہزار 177 گانٹھیں فروخت ہوئیں۔ ان میں ٹیکسٹائل ملوں نے 7 لاکھ 45 ہزار 377 گانٹھیں جبکہ برآمد کنندگان اور تاجروں نے 2,800 گانٹھیں خریدیں۔سندھ میں کپاس کی آمد مجموعی تعداد کے لحاظ سے بدستور زیادہ رہی اور 15 لاکھ 27 ہزار 740 گانٹھوں تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ سال کی 13 لاکھ 14 ہزار 130 گانٹھوں کے مقابلے میں 2 لاکھ 13 ہزار 610 گانٹھیں یا 16.25 فیصد زیادہ ہے۔ سندھ میں 14 لاکھ 18 ہزار 922 گانٹھوں سے روئی تیار کی گئی اور 13 لاکھ 79 ہزار 716 گانٹھیں فروخت ہوئیں۔ ان میں سے 12 لاکھ 89 ہزار 716 گانٹھیں ٹیکسٹائل ملوں جبکہ 90 ہزار گانٹھیں برآمد کنندگان اور تاجروں نے خریدیں۔سانگھڑ ملک میں کپاس کی آمد کے لحاظ سے بدستور سب سے بڑا ضلع رہا جہاں 8 لاکھ 88 ہزار 607 گانٹھیں پہنچیں۔ یہ گزشتہ سال کی 7 لاکھ 78 ہزار 950 گانٹھوں کے مقابلے میں ایک لاکھ 9 ہزار 657 گانٹھیں یا 14.08 فیصد زیادہ ہیں۔پنجاب میں بہاولنگر میں کپاس کی سب سے زیادہ آمد 1 لاکھ 66 ہزار 400 گانٹھیں ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 91.87 فیصد زیادہ ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں 1 لاکھ 46 ہزار 415 گانٹھیں پہنچیں جو 55.64 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ بہاولپور میں کپاس کی آمد تقریبا دگنی ہوگئی اور 96.11 فیصد اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 25 ہزار 253 گانٹھوں تک پہنچ گئی۔کئی دیگر اضلاع میں بھی کپاس کی آمد میں نمایاں شرح سے اضافہ ہوا۔ لودھراں میں آمد 166.21 فیصد بڑھ کر 15 ہزار 174 گانٹھیں، لیہ میں 106.20 فیصد اضافے کے ساتھ 76 ہزار 778 گانٹھیں، خیرپور میں 104.58 فیصد اضافے سے 85 ہزار 473 گانٹھیں اور دادو میں 150 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار گانٹھیں ہوگئیں۔بیان کے مطابق ملک میں فروخت نہ ہونے والی کپاس کا ذخیرہ 2 لاکھ 60 ہزار 789 گانٹھوں پر مشتمل ہے جو گزشتہ سال کی 3 لاکھ 25 ہزار 780 گانٹھوں کے مقابلے میں کم ہے۔ موجودہ سیزن میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کپاس کی آمد 6 لاکھ 92 ہزار 231 گانٹھیں رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 6 لاکھ 68 ہزار 752 گانٹھیں تھی۔ملک بھر میں مجموعی طور پر 412 جننگ فیکٹریاں کام کر رہی تھیں جن میں پنجاب کی 205 اور سندھ کی 207 فیکٹریاں شامل ہیں۔