اسلام آباد۔۔۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد اس وقت لندن اور نیویارک سے زیادہ محفوظ ہے اور یہ بات مختلف مطالعات سے ثابت ہوتی ہے۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ ممکن ہے وفاقی دارالحکومت محفوظ ہو، مگر بیرونِ ممالک فوری ایکشن لیا جاتا ہے، پاکستان میں سزا دینے کی شرح صفر ہے۔ وزیر طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد اس وقت لندن اور نیویارک سے زیادہ محفوظ ہے اور یہ بات مختلف مطالعات سے ثابت ہوتی ہے۔ سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر طلحہ محمود نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت دیگر علاقوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ جس پر طلال چوہدری نے تجویز دی کہ چاروں صوبوں کی سیکیورٹی صورتحال پر الگ بریفنگ لی جائے۔اجلاس کے دوران سینیٹر جام سیف اللہ نے سوال اٹھایا کہ کچے کے ڈاکوؤں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہا۔ اس پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کچے میں اس وقت سات افسران آپریشن کر رہے ہیں اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران کوئی افسوسناک واقعہ پیش نہیں آیا۔اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار کی نشاندہی پر بدین سے ہندو لڑکی پریا کماری کے اغوا کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ دنیش کمار نے سوال کیا کہ لڑکی کو تاحال بازیاب کیوں نہیں کرایا جا سکا۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ انیس اگست دوہزار اکیس کو لڑکی سکھر سے اغوا ہوئی، ایک ہزار سے زائد افراد اور خانہ بدوشوں سے تفتیش کی گئی، اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تصاویر مختلف علاقوں میں تقسیم کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس اور ایف آئی اے سے بھی تعاون لیا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ اغواکار لڑکی کو کچے کے ڈاکوؤں تک نہ پہنچا چکے ہوں۔ آئی جی سندھ نے امید ظاہر کی کہ جلد کامیابی حاصل ہو گی۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ پولیس اور ایف آئی اے کی مدد سے کیس حل ہونا چاہیے۔ایس ایس پی ٹریفک اسلام آباد نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سیف سٹی منصوبے کو مزید پھیلایا جا رہا ہے اور آئندہ تین ماہ میں فیشل ریکگنیشن کیمرے نصب کیے جائیں گے۔