عبد الجبار
واشنگٹن،تہران۔۔۔۔۔۔۔۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ مکمل کر لیا ہے، امریکی افواج نے ایرانی پاسداران انقلاب کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی تنصیبات، ریڈار نظام، بحری اثاثے، فوجی تنصیبات، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتیں اور مواصلاتی مراکز شامل ہیں جبکہ امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کویت، بحرین، اردن اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا نے اور متعدد امریکی فوجیوں کو ہلاک ،کئی ہیلی کاپٹر وڈرونز تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے ۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں اور امریکی فوجی اہلکاروں کے خلاف پاسداران انقلاب کے حالیہ حملوں کی کوششوں کے جواب میں کیے گئے۔ مشرقِ وسطی میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی موجود ہیں جومکمل چوکس ہیں اورمزید کارروائیوں کے لئے تیار ہیں۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر امریکا کا تازہ ترین حملہ جائز تھا، اگر تہران نے جوابی کارروائی کی تو امریکا مزید بڑے حملے کرے گا،حملے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے پر حملے کیے گئے۔ آبنائے ہرمز میں اس وقت کوئی بارودی سرنگ موجود نہیں، تمام سرنگیں ہٹادیں یا ناکارہ بنا دی گئی ہیں۔ادھر ایران کے علاقے’سیرک’کے قریب شادی کی تقریب پر بمباری کے نتیجے میں 4 افراد شہید، 50 سے زائد زخمی ہوئے،قشم جزیرے اوربندرعباس سمیت مختلف شہروں دھماکے ہوئے،قشم جزیرے کے ماسان گائو ں کے قریب 5 سے زائد دھماکے ہوئے۔دوسری جانب امریکی حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی۔پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ امریکا کے خلاف جوابی کارروائی میں امریکی فوج کے ایم کیو نائن ڈرون کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہبڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعوی بھی کیا ہے،پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا کہ اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔اردن کا کہنا ہے کہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 میں سے 10 بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ تین میزائل آبادی سے دور گرے۔ رپورٹ کے مطابق اردن میں امریکی تنصیبات پر ایرانی حملے میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔پاسداران انقلاب نے دعوی کیا کہ حملے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ کیمپ میں موجود کئی تنصیبات اور دشمن کے حملہ آور ہیلی کاپٹرز بھی تباہ کر دئیے گئے۔اردن میں خطرے کے سائرن بجا دئیے گئے ۔ اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پر امریکی پائلٹ اور تکنیکی عملہ ہلاک ہوا ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ امریکا کے ان نئے حملوں نے آبنائے ہرمز کے محاصرے کو مزید سخت کر دیا ہے اور اس آبنائے میں مداخلت کرنے والی غیر ملکی افواج کو کچلنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے عزم کو تقویت بخشی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ایران کے علاقوں پر امریکہ کے متعدد فضائی حملوں کے ایک گھنٹے بعد ایرانی عسکری ذرائع نے اردن میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل داغے جانے کا اعلان کیا اور ان حملوں سے منسوب تصاویر جاری کیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے فوجی مہم آپریشن تھنڈر کے 29ویں مرحلے کا حصہ تھے۔ایرانی فوج کے مطابق شیخ عیسی ائیربیس خلیج میں ایک اہم امریکی اڈہ ہے، جہاں ہیلی کاپٹروں کی مرمت، ڈرون کے پرزوں اور جاسوس طیاروں سے متعلق سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ایرانی فوج نے مزید دھمکی دی کہ مستقبل میں ہونے والے مزید حملوں کے جواب میں تباہ کن اور وسیع پیمانے پر ردعمل دیا جائے گا۔ا س دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاہے کہ ایران وحشیانہ جرائم کا بھرپور جواب دے گا، جرائم پرخاموشی اختیار کرنے والی حکومتیں غیرجانبدارنہیں،بربریت کوجوازفراہم کرنا جرم کو معمول بنانے کے مترادف ہے،غیرقانونی حملوں کو سیاسی مفاد کے لئے جائزنہیں کیاجاناچاہیے،جرائم کی مذمت اور انہیں معمول بنانے کے درمیان فرق ختم ہورہا ہے ۔ایرانی پاسداران انقلاب فورس کے سیاسی نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں کے میزبان عرب ممالک امریکی افواج کو اپنی سرزمین سے نکال دیں۔جنرل یداللہ جوانی نے کہا کہ ایران خطے میں ہر اس مقام کو نشانہ بنائے گا جہاں سے ایران کے خلاف جارحیت ہوگی۔ ادھر ایرانی پارلیمان کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ شہریوں کا قتل نام نہاد انسانی حقوق کے محافظوں کی مایوسی اور بے بسی کا واضح ثبوت ہے۔امریکی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے کہا کہ مناب اور لامرد میں کیے گئے امریکی حملے مظالم کی کڑی ہیں، کوئی غلطی پر نہ رہے، امریکی جرائم پر اسے سزا ضرور ملے گی، ایرانی مسلح افواج کے آہنی عزم کے آگے کوئی چیز امریکا کو نہیں بچا سکے گی۔