امریکا کی دھوکا دہی والی فطرت پر شکوک ہیں، ایران

تہران …ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں فعال طور پر شرکت کرے گا تاہم امریکا کی دھوکا دہی والی فطرت کے سبب گہرے شکوک و شبہات باقی رہیں گے۔ ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی نائب صدر نے کہا کہ امریکا اوراسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے عبوری جنگ بندی ممکن بنانے پر پاکستان کی کاوشوں کی ستائش کی گئی ہے۔ محمد رضا عارف کا کہنا تھا کہ ایران اسلام آباد مذاکرات میں پوری اتھارٹی کے ساتھ شریک ہوگا اوران مذاکرات کا ہدف اپنی فوجی کامیابیوں کوسفارتی طور پر مزید تقویت دینا ہوگا۔ نائب صدر نے مزید کہا کہ جنگ کیان 40 دنوں میں ایران نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کیا، یہ جنگ اسٹریٹیجک حکمت عملیوں میں علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کے لیے فیصلہ کن موڑ ہے، قوم کے عزم نے دشمن کوسیاسی اور سکیورٹی محاذوں پر تاریخی شکست دی۔نائب صدر محمد رضا عارف نے ایرانی عوام کے مظاہروں کو سوفٹ پاور قراردیا۔ ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے سیز فائر کے دوران میزائل حملوں کی تردید کر دی۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد کسی بھی ملک پر کوئی میزائل نہیں داغے، کوئی شک نہیں کہ ایسے حملوں کے پیچھے صہیونی دشمن اور امریکا ہیں۔ایران کی افواج نے جنگ بندی کے دوران کسی بھی ہدف کو میزائل سے نشانہ نہیں بنایا، آئی آر جی سی نے ان رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے یہ مقف اختیار کیا کہ اگر میڈیا میں شائع ہونے والی یہ اطلاعات درست ہیں کہ کویت نیشنل گارڈ کی ایک تنصیب کو ڈرون حملے میں نقصان پہنچا ہے تو اس کے پیچھے بلاشبہ اسرائیل اور امریکا کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی مسلح افواج اگر کسی ہدف کو نشانہ بنائیں گی تو اس کا اعلان واضح اور سرکاری طور پر کیا جائے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یہ اقدامات خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ایرانی صدر نے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان پر جاری حملے نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ جاری جنگ بندی مذاکرات کو بھی بے معنی بنا سکتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ یہ حملے دھوکا دہی کی علامت ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض فریقین ممکنہ معاہدوں کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ بندی کی مکمل پاسداری ضروری ہے

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x