امریکی یونیورسٹیوں کے خلاف کریک ڈائون کابل منظور

نثاراحمد

واشنگٹن۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکی ایوانِ نمائندگان نے اسرائیل کے بائیکاٹ میں شامل ہونے والی جامعات کے خلاف کارروائی سے متعلق ایک بل منظور کرلیا ۔ بل کے تحت ایسی جامعات کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والی مالی امداد روکنے کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ اقدام غزہ جنگ کے معاملے پر امریکی جامعات میں جاری احتجاج اور اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم کے درمیان سامنے آیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی اکثریت رکھنے والے ایوانِ نمائندگان میں پروٹیکٹ اکنامک اینڈ اکیڈمک فریڈم ایکٹ کے حق میں 237 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 169 نے مخالفت کی۔ بل کو قانون بننے کے لیے اب سینیٹ سے بھی منظوری درکار ہوگی۔ووٹنگ میں زیادہ تر ارکان نے اپنی جماعت کے موقف کے مطابق ووٹ دیا۔ صرف 2 ریپبلکن ارکان نے بل کی مخالفت کی جبکہ 33 ڈیموکریٹ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔یہ قانون ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب غزہ میں جنگ کے باعث فلسطینیوں کی شہادتوں پر امریکا میں اسرائیلی حکومت کے خلاف تنقید بڑھ رہی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر حملے میں تقریبا 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 73 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔غزہ کی جنگ کے بعد امریکا کی متعدد جامعات میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے اور اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بعض جامعات کے خلاف تحقیقات شروع کرنے اور وفاقی فنڈز روکنے کی دھمکیاں بھی دیں۔امریکی حکومت اور کانگریس میں کئی ریپبلکن ارکان کا موقف ہے کہ بعض احتجاجی سرگرمیوں میں یہود مخالف رویے اور انتہا پسندی شامل ہے۔ تاہم مظاہرین اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت اور غزہ میں ہونے والی تباہی پر اعتراض کو یہود مخالف سوچ یا انتہا پسندی کی حمایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x