نثار احمد
تہران۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دنیا میں امن اور استحکام قائم کرنا ہے تو یہ ہمارے خطے ہی سے ابھرے گا۔تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوت اور عزم سے کھڑی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔ایرانی صدر نے کہا کہ ہم نے جنگ شروع نہیں کی اور نہ ہی ہم جنگ کے خواہاں ہیں لیکن کسی بھی جارح کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ایران دھمکیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس یادداشت پر عمل درآمد سے امریکہ اور اسرائیل کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے سے روکا جا سکے گا اور خطے کے ممالک آپس کے تعاون و اتحاد کے ذریعے امن اور ترقی کی سمت آگے بڑھ سکیں گے، حکومت کے تینوں شعبوں کے سربراہان اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی میں کافی بہتری آئی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ تہران کسی کی دھمکی یا دبا ئو کے سامنے سر نہیں جھکائے گا، ایرانی قوم اپنی قومی خودمختاری اور دفاع کے لئے مکمل طور پر متحد ہے، عالمی امن اور پائیدار استحکام کا آغاز خود اس خطے سے ہونا چاہیے اور عالمی برادری کو کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، امریکی پابندیاں ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔انہوں نے پابندیوں کے اثرات سے انکار کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا، ایسے لوگوں سے میں واقعی نہیں جانتا کہ کیا کہوں، ہم اس وقت ایک معاشی جنگ کی صورتِ حال میں ہیں اور ہمیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کے ان حالات کو قبول اور ان کا مقابلہ کرنا ہو گا۔