نیویارک کے ساحل کے قریب سائنس دانوں نے سمندر کی تہہ میں کھدائی کے دوران تازہ پانی کا ایک پراسرار اور وسیع ذخیرہ دریافت کیا ہے، جو بڑھتے ہوئے عالمی پانی کے بحران کے لیے نئی سمت فراہم کر سکتا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ سمندر کے نیچے تازہ پانی کی موجودگی کے شواہد ملے ہوں۔ 1960 اور 70 کی دہائیوں میں بھی تیل کی تلاش کے دوران کبھی کبھار پانی کے میٹھے ذخائر سامنے آتے تھے۔ 2019 میں امریکی اداروں ووڈز ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن اور کولمبیا یونیورسٹی نے اعلان کیا تھا کہ میساچوسٹس سے نیو جرسی تک زیرِ سمندر تازہ پانی کا ایک خطہ موجود ہے، جسے دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ قرار دیا گیا تھا۔
اس سال مئی میں بین الاقوامی سائنس دانوں کی ٹیم نے “ایکسپیڈیشن 501” کے تحت براہِ راست کھدائی شروع کی۔ تین ماہ تک جاری رہنے والی اس مہم میں 1,000 سے 1,300 فٹ گہرائی تک جا کر نمونے اکٹھے کیے گئے۔ ان میں ایسے پانی کے ذخائر ملے جن کی نمکیات سطح سمندر کے پانی سے کہیں کم اور پینے کے قابل سطح کے قریب ہیں۔
اب یہ جانچ جاری ہے کہ پانی کس دور کا ہے — دو سو سال پرانا یا بیس ہزار سال پرانا۔ اگر پانی نسبتاً نیا نکلا تو اس کا مطلب ہوگا کہ یہ ذخائر دوبارہ بھر رہے ہیں، ورنہ یہ ایک محدود اور ختم ہونے والا وسیلہ ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پانی ہزاروں سال قبل اس وقت جمع ہوا جب سمندر کی سطح نیچی تھی اور براعظمی ساحلی خطہ خشکی کی شکل میں موجود تھا۔
ماہرین کے مطابق اس ذخیرے میں اتنا پانی ہوسکتا ہے کہ نیویارک جیسے شہر کو صدیوں تک سپلائی کی جا سکے۔ دنیا بھر میں تقریباً نصف آبادی ساحلی علاقوں میں رہتی ہے جہاں زمینی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور نمکیات سے آلودہ ہو رہے ہیں۔ ایسے میں زیرِ سمندر آبی ذخائر ایک متبادل کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
تاہم یہ پانی نکالنے کے لیے بھاری لاگت اور توانائی درکار ہوگی اور اس کے مالکانہ حقوق، قیمت اور ترسیل جیسے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔ سائنس دانوں کے مطابق اگلے دس برس میں یہ ٹیکنالوجی قابلِ عمل ہو سکتی ہے۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اٹلانٹک کے نیچے دریافت ہونے والا یہ ذخیرہ صرف آغاز ہے، ایسے آبی ذخائر دنیا کے ہر براعظم کے ساحلوں کے نیچے موجود ہونے کے شواہد مل چکے ہیں۔