کراچی، 17 ستمبر 2025: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست 2025 میں عوام نے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے 169 ارب روپے کی خریداری اور ادائیگیاں کیں۔ یہ اگست 2024 کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہے، جب یہ حجم 128 ارب روپے تھا۔
ماہانہ بنیادوں پر بھی کریڈٹ کارڈ کے استعمال میں اضافہ ہوا۔ جولائی 2025 میں صارفین نے 163 ارب روپے کی ادائیگیاں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کیں جبکہ اگست میں یہ رقم بڑھ کر 169 ارب روپے ہوگئی ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بڑی وجہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کا دباؤ ہے، جس کی وجہ سے لوگ قلیل مدتی قرض یعنی کریڈٹ کارڈز پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ شہروں میں ڈیجیٹل لین دین بھی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
دوسری طرف، پاکستان کو بیرون ملک سے بھیجنے والی ترسیلات زر میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اگست 2025 میں پاکستانیوں نے 3.1 ارب ڈالر وطن بھیجے، جو پچھلے سال کے اسی مہینے سے 7 فیصد زیادہ ہیں۔ تاہم جولائی کے مقابلے میں اس میں 1 فیصد کمی آئی ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ترسیلات زر سے وقتی طور پر معیشت اور عوام کو سہارا مل رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ گھریلو قرضوں کے بڑھنے اور بیرونی آمدنی پر انحصار کے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔