فرخ تنویر ملک
واشنگٹن۔۔۔۔۔۔۔۔اردن میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں متعدد امریکی جنگی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ بدھ کی صبح اردن کے موافق السلطی ایئربیس پر ایرانی حملے میں تقریبا 8 ایف 15 جنگی طیاروں کو نقصان پہنچا، تاہم انہیں دوبارہ آپریشنل کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق حملے میں ایک اے 10 تھنڈر بولٹ جنگی طیارہ بھی زد میں آیا، جسے وارٹ ہاگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ایک اے 10 تھنڈربولٹ طیارہ ایک پر سے محروم ہوکر ناکارہ ہوگیا۔امریکی میڈیا کے مطابق حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکی اڈے سے 30 سے زیادہ پیٹریاٹ میزائل داغے گئے، امریکا کو پہلے ہی پیٹریاٹ میزائلوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔یہ حملہ ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے جوابی حملوں کی لہر کا حصہ تھا۔ امریکا نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں اس نے 5 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس کے جواب میں 8 تیل بردار جہازوں، 2 جنگی بحری جہازوں اور اردن میں قائم امریکی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب غیر ملکی میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق غیر معمولی طور پر ہیلی کاپٹرز کو پرواز کے بجائے مکمل حالت میں فلیٹ بیڈ ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہے اور امریکی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ درپیش ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق ہیلی کاپٹرز کی منتقلی کا مقصد انہیں ممکنہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنا اور امریکی عسکری اثاثوں کو مختلف مقامات پر پھیلانا ہوسکتا ہے۔یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض ہیلی کاپٹرز حالیہ حملوں میں ملبے یا دیگر نقصانات کے باعث اپنی مدد سے پرواز کے قابل نہ ہوں۔