فرخ تنویرملک
نیویارک ۔۔۔۔۔۔۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے ایٹمی معائنہ کاروں کو دوبارہ ایران میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اگر معائنہ کار ایران آ کر معائنہ کرنا چاہتے ہیں تو اس مخصوص معاملے پر مذاکرات کے دوران باہمی اتفاق اور معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اگر کوئی وعدہ کرے گا تو اسے نبھائے گا، امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام پر پابندیوں کے حوالے سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا ، فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اگر اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم نیا معاہدہ بین الاقوامی قانونی دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ تعاون محدود کر دیا تھا، ایران کا موقف رہا ہے کہ جنگ سے متاثرہ تنصیبات کی سکیورٹی صورتحال کے باعث وہاں فوری معائنے ممکن نہیں، اور اس کے لیے خصوصی طریقہ کار طے کیا جانا چاہیے۔جون 2026 میں امریکا اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران تک رسائی ملنی چاہیے۔