فرخ تنویر ملک
تہران۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز میں خلل کا الزام مسترد کرتے ہوئیکہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے سے قبل آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی، امریکا نے خطے پر غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ مسلط کی، جس کے نتیجے میں تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہوا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ کردیہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا اپنے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ امریکا دنیا کے سامنے اپنے ہی پیدا کردہ خلل کو ایران کے نام کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی شروع کی گئی جنگ کی وجہ ایران کے طرزِ عمل کو قرار دینا چاہتا ہے۔انہوں نے واشنگٹن پر خطے میں ایک غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ مسلط کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی جنگ کے نتیجے میں تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہوا ہے اور توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا جنگ خود شروع کرکے اس کی ادائیگی پوری دنیا سے کرانے کی توقع کر رہا ہے۔ امریکاکی جانب سے صرف ایران کو خطے میں افراتفری کا ذمہ دار قرار دینا سراسر مضحکہ خیز ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ساحلی ریاستوں کو جارح ممالک کے جنگی جہاز روکنے کا حق ہے، جنگ شروع کرنے والا فریق نتائج کی ذمہ داری قبول کرے۔ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور جنوبی کوریا کے تعلقات 64 سال سے زائد عرصے پر محیط ہیں، جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی عوام اس وقت امریکی جارحیت کے خلاف دفاع میں مصروف ہیں، خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہو گی، آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں میں کسی بھی ملک کی شرکت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کو امریکی دبائو اور دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہئے، امریکا نے خطے پر وحشیانہ جنگ مسلط کی اور اب اس کی ادائیگی پوری دنیا سے کرانے کی توقع کر رہا ہے ۔علاوہ ازیں اسماعیل بقائی نے اینی میٹڈ سیریز دی سمپسنز کی تصویر شیئر کر کے امریکا پر طنز کیا ہے۔اسماعیل بقائی نے اپنی پوسٹ میں امریکی اینی میٹڈ سیریز دی سمپسنز کی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے، جس میں اس کے کرداروں ہومر اور بارٹ کو پھیلتی ہوئی آگ کے پاس کھڑے دکھایا گیا ہے۔تصویر میں بارٹ کہتا ہے کہ پریشان نہ ہوں، یہ آگ قابو میں رکھی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔