ایران کا جوابی وار،اردن اور یو اے ای پر حملے

نثار احمد

تہران،واشنگٹن،لندن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایران نے لارک جزیرے پر امریکی حملے کے جواب میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کئے ہیں جبکہ امریکی ڈرون ایم کیو نائن مارگرانے کا دعوی کیا ہے،دوسری جانب امریکہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ایک اور بینک پر پابندیاں لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔عالمی میڈیارپوررٹس کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ لارک جزیرے پر امریکی حملے کا جواب دیدیا گیا ہے ۔ اردن میں 2 امریکی اڈوں کوبیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حملے میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں۔امریکی ذرائع کا دعوی ہے کہ ایران سے فائر کیے گئے تقریبا تمام میزائل فضا میں ہی ناکارہ بنا دئیے گئے۔ اردن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو مار گرایا۔ ایران نے متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر ڈرون حملہ کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی فوج نے اس کارروائی میں اس مقام کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اہلکار اور ہیلی کاپٹرز موجود تھے۔ برطانوی خبررساںادارے کے مطابق ایرانی فوج نے بتایا کہ المنہاد ایئر بیس پر ڈرون حملہ کیا گیا، تاہم فوری طور پر اس کارروائی میں ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ایرانی فوج کے مطابق یہ حملہ جزیرہ لارک پر پاسداران انقلاب کے اہلکاروں اور ایرانی شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں کیا گیا۔ تہران کا موقف ہے کہ المنہاد ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا اسی کارروائی کا ردعمل ہے۔ ایرانی دعوے کے بعد متحدہ عرب امارات میں سکیورٹی صورتحال پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ تاہم حملے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا تھا کہ جزیرہ لارک پر امریکی حملے میں متعدد ایرانی اہلکار اور شہری شہید و زخمی ہوئے۔ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فورسز نے ایران کے جزیرے لارک پر پاسدارانِ انقلاب کے 2 راکٹ لانچرز پر بمباری کی ہے۔ امریکی عہدیدار کے مطابق اتوار و پیر کی درمیانی رات کو حملہ اس وقت کیا گیا جب مذکورہ لانچرز آبنائے ہرمز کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے میزائل داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے خارگ جزیرے کو مکمل تباہ کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک اے آئی ویڈیو پوسٹ کی جس میں بظاہر امریکی فوج کی جانب سے ایران میں بمباری کی جارہی ہے۔ خارگ میں ایران کی اہم تیل تنصیبات موجود ہیں۔ اس دوران ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے امریکی ڈرون ایم کیو نائن مارگرا نے کا دعوی کیا ہے۔پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر فضائی دفاعی میزائلوں سے امریکی ڈرون مار گرایا، حملے کے بعد امریکی ڈرون خلیجی پانیوں میں گر گیا۔ادھر ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق آبنائے ہرمز میں 2 بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد ایک سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے غیر قانونی طور پر گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، خلاف ورزی کرنے والے دیگر بحری جہازوں کو بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑے گا، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مقررہ ضوابط پر عمل لازمی ہے۔دریں اثنا ایران نے اپنے جزیرے لارک پر امریکا کے تازہ فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی فورسز کی کارروائی کو جائز دفاع قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران امریکا کی جانب سے جزیرہ لارک پر کی جانے والی فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملے کے جواب میں ایرانی فورسز نے اپنے دفاع کے فطری اور قانونی حق کے تحت کارروائی کی۔ تہران کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکا نے ایران کے جزیرہ لارک پر حملہ کیا، جس کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ اسے اپنی سرزمین اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات کا حق حاصل ہے۔ تہران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے حملوں کے جواب میں اپنی دفاعی صلاحیت استعمال کرتا رہے گا۔ امریکا نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کے خطرے کو روکنا اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کرنا تھا۔ادھر امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کے خلاف کارروائی کو جارحیت قرار دینے کے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بالکل غلط قرار دیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز کے خلاف محدود اور درست کارروائی کی۔سینٹکام کے مطابق ایرانی فورسز کی سرگرمی آبنائے ہرمز میں موجود شہری بحری جہازوں اور عالمی تجارتی آمدورفت کے لیے فوری خطرہ بن رہی تھی، اس لیے امریکی فوج نے اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کی۔امریکی کمانڈ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے اس دعوے کو بالکل غلط قرار دیا کہ امریکی کارروائی ایک جارحانہ اقدام تھی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی کارروائی کا مقصد شہری ملاحوں، تجارتی جہازوں اور عالمی تجارت کی آزادانہ آمدورفت کا تحفظ تھا۔امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس راستے میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کسی بھی کوشش سے بحری جہازوں کی آمدورفت اور عالمی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔سینٹکام نے اپنے بیان میں مقف اختیار کیا کہ خطرہ ایرانی فورسز کی جانب سے پیدا کیا گیا تھا اور امریکی فوج نے کارروائی کرکے اس خطرے کو ختم کیا۔ امریکی کمانڈ کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا۔علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں مزید تیز کردی ہیں اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی مدد کرنے والے ایک اور بینک پر رواں ہفتے پابندیاں لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔انہوں نے برطانوی خبررساںادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دبائو بڑھانے کیلئے ہر ہفتے نئی ثانوی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم بینکوں سے آغاز کر رہے ہیں اور انہیں بتا رہے ہیں کہ ایرانی رقم رکھنا اور ایرانی حکومت کی مدد کرنا قابل قبول نہیں ہے۔جمعے کے روز امریکہ نے ایران کے ساتھ مبینہ طور پر مالی روابط رکھنے کے الزام پر مصر کے بینک مصر کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔سکاٹ بیسینٹ کا کہنا تھا کہ اگلا قدم کسی مالیاتی ادارے کو مکمل طور پر ڈالر پر مبنی امریکی مالیاتی نظام سے باہر کرنا ہو سکتا ہے۔انہوں نے شمالی کیرولینا کے شہر ایش ول میں ہونے والے جی 20 کے اجلاس سے قبل خبر رساں ادارے اے پی سے بھی بات کی۔اس اجلاس میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے جن سے سکاٹ بیسینٹ الگ الگ ملاقاتیں کریں اور ایران کے خلاف تعاون پر زور دیں گے۔ سکاٹ بسینٹ کا کہنا تھا کہ وہ 20 اجلاس میں ایران کے ساتھ تجارت کے معاملے پر چینی ہم منصب سے بھی بات کریں گے۔ان کے مطابق ایران سے مسلسل تیل خریدنے پر چین کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکی انتظامیہ چین کا سامنا کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ انہوں نے اس کو بالکل غلط بیانیہ قرار دیا اور اسے آگے بڑھانے کا ذمہ دار میڈیا کو قرار دیا۔سکاٹ بیسینٹ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا چاہیے اور ایران جوہری ہتھیاروں سے روکنا ضروری ہے۔ دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ایجنسی یوکے ایم ٹی او نے کہا ہے کہ ہفتے کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کو کسی نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بنایا گیا ہے۔یو کے ایم ٹی او نے ایک ایڈوائزری نوٹ میں بتایا کہ یہ واقعہ عمان کے علاقے خصب سے 12 ناٹیکل میل شمال میں پیش آیا۔ایجنسی نے مزید واضح کیا کہ اس حملے کے نتیجے میں تاحال کسی قسم کے جانی نقصان یا ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x