بانی پی ٹی آئی عمران خان کا پمز میں رات گئے طبی معائنہ

اسلا م آباد۔۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کا آنکھوں کے علاج کے سلسلے میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میںفالو اپ طبی معائنہ کیا گیا، جہاں انہیں چوتھا انٹرا وٹریئل انجکشن دیا گیا۔پمز کے ترجمان کے مطابق 74 سالہ بانی پی ٹی آئی کو 28 اپریل کو آنکھ کے علاج کے فالو اپ کیلئے اسپتال لایا گیا تھا۔ماہر امراض چشم نے ان کا مکمل طبی معائنہ کیا، جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا۔ترجمان کے مطابق طبی رپورٹس میں بہتری بھی سامنے آئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام طبی کارروائی سخت احتیاطی تدابیر کے تحت آپریشن تھیٹر میں انجام دی گئی، جہاں بانی پی ٹی آئی کو چوتھا انٹرا وٹریئل انجکشن لگایا گیا۔پمز انتظامیہ کے مطابق پورے علاج کے دوران مریض کی حالت مستحکم رہی اور کامیاب طریقہ کار کے بعد انہیں ضروری ہدایات اور فالو اپ مشوروں کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو رات کے وقت سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال لایا گیا۔ جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے تقریبا 2 گھنٹے تک ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ چیک اپ مکمل ہونے کے بعد رات 4 بجے انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔اڈیالہ جیل حکام کے مطابق عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جایا گیا۔ دو گھنٹے تک طبی معائنے کے بعد عمران خان کو صبح چار بجے واپس جیل منتقل کیا گیا۔ عمران خان کی آنکھوں کے علاج سے متعلق تفصیلی رپورٹ طبی معائنہ کرنے والی ٹیم جاری کرے گی۔اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہوا کہ عمران خان کو رات کے وقت آنکھوں کے انجیکشن کے لیے پمز اسپتال لے جایا گیا تھا اور ان کا طبی معائنہ بھی کیا گیا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ بانی چیئر مین عمران خان کے سرکاری علاج پر عدم اعتماد برقرار ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ مجھے ابھی تصدیق ہوئی ہے کہ عمران خان کو گزشتہ رات آنکھ کے انجیکشن اور میڈیکل چیک اپ کے لیے پمز لے جایا گیا تھا، میں مزید کہوں گا کہ علاج خواہ کچھ بھی ہو ہماری تشویش اپنی جگہ برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو خاندان کے افراد کے ساتھ ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے کیوں کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے اور ہم عرصہ دراز سے انہیں یہ بنیادی حق فراہم کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ عمران خان کی آنکھ کی بیماری رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن جنوری کے آخر میں سامنے آئی تھی۔ ان کا پہلا طبی عمل 24 جنوری کو کیا گیا تھا۔پھر عمران خان کو اس انجیکشن کی دوسری خوراک 23 اور 24 فروری کی درمیانی شب دی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے انھیں اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال ہی لایا گیا تھا۔بعد ازاں 23 مارچ کو اینٹی وی ای جی ایف انٹرا وٹریئل انجیکشن کی تیسری خوراک لگانے کے لیے بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا تھا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x