اسلام آباد۔۔بانی پی ٹی آئی نے عدالتی معاون سے ملاقات میں آنکھ کے معاملے پر پریشانی کا اظہار کیا ہے جیل میں بانی پی ٹی آئی کو دستیاب سہولیات اور ان کی صحت سے متعلق تیار کی گئی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔۔۔۔۔ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے فوری معائنے سمیت ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے چیک اپ کرانے کی اجازت دی جائے۔ تاہم سفارش کی گئی ہے کہ اگر ذاتی ڈاکٹر دستیاب نہ ہوں تو کسی ماہر امراض چشم سے فوری طبی معائنہ کرایا جائے۔۔۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے عدالتی معاون سے ملاقات کے دوران آنکھ کے مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے ان کی آنکھ کی بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ان کے بقول اکتوبر 2025 تک دونوں آنکھوں کی بینائی 6/6 نارمل تھی، تاہم بعد ازاں دھندلاہٹ شروع ہوئی اور مسلسل شکایات کے باوجود جیل حکام نے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک مکمل طور پر ختم ہوگئی، جس پر پمز اسپتال کے ماہرِ چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنے کے لیے بلایا گیا۔ معائنے میں آنکھ میں خون کے لوتھڑے (بلڈ کلاٹ) کی تشخیص ہوئی جس کے باعث شدید نقصان پہنچا۔ علاج کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہنے کا بھی ذکر کیا گیا۔ دو سال سے ان کا دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا جبکہ باقاعدہ بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے۔۔۔۔۔۔
سہولیات کے حوالے سے رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا گیا اور ان کے سیل میں موجود ٹی وی غیر فعال ہے۔ فعال ٹی وی کی عدم موجودگی میں کتابوں کی فراہمی کا حکم دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ کتابوں کی فراہمی سے کوئی سکیورٹی خدشہ پیدا نہیں ہوگا۔ سیل میں مچھروں اور حشرات کے خاتمے کے اقدامات اور ریفریجریٹر جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔۔۔۔۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو وکلاء سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جس سے شفاف ٹرائل کا بنیادی حق متاثر ہو رہا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور وکلاء سے ملاقات یقینی بنائے اوراسی طرح اہلخانہ سے بلاتعطل ملاقاتوں کی بھی سفارش کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔