برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا، اسرائیل کی عالمی تنہائی میں اضافہ

لندن/اوٹاوا/کینبرا: برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے اسرائیل کی سفارتی تنہائی مزید گہری ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی سطح پر اس پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اپنے بیانات میں کہا کہ دو ریاستی حل کے ذریعے ہی دیرپا امن ممکن ہے۔ تینوں رہنماؤں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے تشدد سے لاتعلقی اور اسرائیل کو تسلیم کر کے امن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے، اسی لیے یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔

اس اعلان پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت ردعمل دیا اور کہا کہ یہ اقدام “دہشت گردی کے لیے انعام” ہے۔ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نہ تو کسی فلسطینی کی مدد کرے گا اور نہ ہی قیدیوں کی رہائی یا امن کے عمل میں پیش رفت کا باعث بنے گا۔

دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس نے اس فیصلے کو “منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے اہم سنگِ میل” قرار دیا۔ حماس نے بھی اسے خوش آئند قدم کہا لیکن زور دیا کہ اس کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے 140 سے زائد ممالک پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، جبکہ فرانس، بیلجیم اور دیگر یورپی ممالک بھی رواں ہفتے اس سمت میں قدم اٹھانے والے ہیں۔ اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑے سفارتی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x