فرخ تنویرملک
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان نے مکہ مکرمہ پر یمن کے حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان حرمین الشریفین کے تحفظ کے لئے سعودی عرب کے ساتھ ہے، حوثیوں کو اپنی سرگرمیاں روکنا ہوں گی،حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں نقل و حرکت دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے ، بھارت غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے گریز کرے ۔جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ ترجمان سجاد حیدر نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک گھنائونا اور انتہائی تشویشناک اقدام ہے، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مقامات مقدسہ پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مشرق وسطی کی بدلتی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں،اور حوثی حملوں کے تناظر میں خطے میں ابھرتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان ڈائیلاگ اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا۔ مکہ دفاعی معاہدے پر تینوں ممالک نے پریس ریلیزجاری کیں، مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے۔سجاد حیدر خان کاکہنا تھا کہ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے اثرات پر شدید تحفظات رکھتا ہے جب کہ باب المندب کی صورتحال بھی باعث تشویش ہے۔ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ بھارتی بحری جہاز نے 15 ستمبر 2026 کو پاک نیوی مشق سی اسپارک 26 کے دوران پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں جارحانہ نقل و حرکت کرکے بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی، اس واقعے پر بھارت کے ناظم الامور کو گزشتہ رات دفتر خارجہ طلب کیا گیا، نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور بھی بھارتی وزارت خارجہ میں احتجاج کریں گے۔ترجمان نے مزید کہا کہ بھارتی اقدام سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے ، بھارت غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے گریز کرے جو عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے لئے 47 برس بعد امریکا ایران کو ایک میز پر بٹھانا بڑی کامیابی تھی، پاکستان سمجھتا ہے کہ مفاہمتی یاد داشت پر عمل کرنے سے امن اور استحکام ممکن ہو سکتا ہے۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ جاری تعاون اور دو طرفہ اشتراک کو مزید تقویت دیتا ہے ، مکہ معاہدے کے سیکرٹری جنرل کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کا فروغ پاکستان اور پورے خطے کے مفاد میں ہے، قطر اور ترکی نے افغانستان کے ساتھ ثالثی کیلئے مثبت کردار ادا کیا، دوست ممالک کی کوششوں کے باوجود افغان ردعمل منفی رہا، پاکستان افغانستان سے دہشت گردی نہ ہونے کی یقین دہانی چاہتا ہے۔ چین سمیت تمام علاقائی ممالک خطے میں امن کے خواہاں ہیں، ہمارا مقصد خطے میں امن و استحکام ہے۔ترجمان نے کہا کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی تعاون کو سیاحت تک بڑھانے پر غور ہونا چاہیے، تینوں ممالک کے درمیان سیاحتی تعاون پر اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔سجاد حیدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں شنگھائی تعاون (ایس سی ا)واجلاس میں بھارت کی نمائندگی ناظم الامور نے کی تھی، امید ہے اگلے سال اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں بھی بھارت کی نمائندگی ہوگی۔سکھ یاتریوں کے حوالے سے بات کرتے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی سکھ شہریوں کو بھارت جانے سے روکے جانے کی خبریں غلط ہیں