فرخ تنویر ملک
صنعا۔۔۔۔۔۔۔۔یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک جزیرے میون پر قبضے کا دعوی کیا ہے جبکہ تنظیم نے سعودی حمایتی فورسز کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ بکتر بند ٹینک ،فوجی ساز و سامان ضبط کرنے کا بھی دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب میں اسلحہ ڈپو اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنا یا گیا ہے جبکہ سعودی عرب نے یمن پر 48 گھنٹوں میں 129حملے کئے ہیں ۔عرب میڈیا کے مطابق جزیرہ میون پر قبضے کے بعد حوثیوں کا باب المندب پر مکمل کنٹرول ہو گیا ہے، گزشتہ روز انصار اللہ نے آبنائے باب المندب پر گرفت مضبوط ہونے کا دعوی کیا تھا۔انصار اللہ نے سعودی حمایتی فورسز کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ بکتر بند ٹینک پر بھی قبضے کا دعوی کیا ہے۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ انصار اللہ نے سعودی حمایتی فورسز کو 5400 مربع کلومیٹر کے علاقے سے پسپا کرنے کا دعوی کیا ہے۔انصار اللہ نے قبضہ کیے ہوئے علاقے سے لاکھوں ڈالرز کا فوجی ساز و سامان ضبط کر لیا۔ دریں اثنا حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حملہ جنوبی سعودی عرب میں واقع شرورا فوجی اڈے پر کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق حملوں میں سعودی عرب کے اسلحہ گوداموں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثی ترجمان نے دعوی کیا کہ حملے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے انجام دیے گئے۔یحیی ساری نے حملے کے وقت یا ممکنہ نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم انھوں نے سعودی عرب کو خبردار کیا کہ اگر یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو سعودی سرزمین کے اندر مزید وسیع اور شدید حملے کیے جائیں گے۔تاحال سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔دریں اثنا انصار اللہ نے یمن پر 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کے ایک سو انتیس فضائی حملوں کا دعوی کیا ہے۔انصار اللہ کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں پر کیے گئے حملوں کا سعودی عرب کو جواب دیا جائے گا۔حوثیوں نے نصف گھنٹے تک جاری لڑائی کی ویڈیو بھی جاری کردی۔روسی میڈیا کے مطابق محاذ چھوڑ کر بھاگنے والوں پر حوثیوں نے حملہ کرکے گاڑیوں کو آگ لگادی۔