فرخ تنویرملک
ٹورنٹو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں کیمپنگ کے لیے جگہ تلاش کرنے والے ایک شوقیہ ماہرِ فلکیات نے اتفاقا ایک قدیم اور وسیع خلائی تصادم سے بننے والا گڑھا دریافت کر لیا۔بعد ازاں سائنس دانوں کو وہاں شیٹر کونز بھی ملے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تقریبا 25 کلومیٹر چوڑا یہ گڑھا تقریبا 39 کروڑ سال قبل ایک زبردست خلائی تصادم کے نتیجے میں زمین پر بنا تھا۔زمین پر اب تک تقریبا 200 خلائی تصادم کے گڑھے باقاعدہ طور پر دریافت اور تصدیق کیے جا چکے ہیں لیکن ماہرینِ ارضیات کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں ایسے سیکڑوں مزید گڑھے موجود ہو سکتے ہیں جن کی ابھی شناخت نہیں ہو سکی۔نئی ممکنہ دریافت کی ابتدا 2024 میں ہوئی، جب شوقیہ ماہرِ فلکیات جوئل لاپوائنٹ کیوبیک کے دور دراز علاقے میں کیمپنگ کے لیے جگہ تلاش کر رہے تھے۔ آن لائن سیٹلائٹ تصاویر دیکھتے ہوئے ان کی نظر مارسل جھیل کے قریب ایک تقریبا گول شکل کی ساخت پر پڑی۔لاپوائنٹ کو شبہ ہوا کہ زمین پر موجود یہ گہرا نشان شاید کسی شہابیے یا دوسرے خلائی جسم کے ٹکرانے سے بنا ہو۔ انہوں نے اس امکان کے بارے میں یورپ اور شمالی امریکا کے ماہرین سے رابطہ کیا۔ ماہرین کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا سفر کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں نظر آنے والی گول ساخت محض قدرتی جغرافیائی تشکیل ہے یا واقعی کسی قدیم خلائی تصادم کی باقیات ہے۔