نثاراحمد
پشاور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی کے غیرقانونی اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نفیس آدمی ہیں، باقی کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے،کے پی میں کوئی آپشن چلے یا نہ چلے، سہیل آفریدی نہیں چل سکے گا، سہیل آفریدی وزارت اعلی سے ہٹنے کے بعد لوٹ مار کے جرم میں جیل کے اندر ہوگا،صوبے میں میں دہشت گردوں کا راج ہے، عوام ایک عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ امیر مقام کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام ایک عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے لوگ کتنی قربانی دے رہے ہیں، تبدیلی سرکار نے صرف وزرائے اعلی ہی تبدیل کیے، عوام کی قسمت نہیں بدلی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا، پی ٹی آئی نے 13 سال حکومت کی، خیبر پختونخوا کے عوام نے جس مقصد کیلئے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا، وہ نظر نہیں آ رہا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعلی کا کوئی تجربہ نہیں ہے، وزیراعلی کو صرف دو ٹارگٹ دئیے گئے ہیں، ایک جتنا لوٹ سکتے ہو لوٹو، دوسرا قیدی کی رہائی، صوبے میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتیں نہیں دی جا رہیں، سہیل آفریدی کی حکومت کو ابھی تک یہی معلوم نہیں کہ انہوں نے کرنا کیا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے، امن نہ ہو تو ترقی کی طرف آگے بڑھنا مشکل ہے، امن کے قیام کے لیے مثر اقدامات کرنا ہوں گے، قیام امن اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ضروری ہے، ہم یہاں رہتے ہیں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر بات کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات پر پی ٹی آئی قیادت کے بیانات پر سوالات اٹھتے ہیں، سکیورٹی اہلکار جانیں دے رہے ہیں، ان کی قربانیوں کو کمتر ظاہر نہیں کرنا چاہیے، ہم بہت سوچ سمجھ کر جلسوں اور دیگر سرگرمیوں میں شرکت کرتے ہیں، ہمارے لئے ہر موقع پر سکیورٹی ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے، پی ٹی آئی کے جلسوں اور ریلیوں میں دہشتگردی کے واقعات کیوں پیش نہیں آئے؟ پی ٹی آئی قیادت کو کے پی میں سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی خدشات کیوں نہیں ہوتے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے لوگوں اور کارکنوں کی شہادتیں دیکھ چکے، مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماں کے خاندان بھی دہشتگردی سے متاثر ہوئے، یہاں کے عوام کی تکلیف ہم سب کی تکلیف ہے، ایک کٹھ پتلی وزیراعلی عوام کے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کرسکتا، سہیل آفریدی کیطرز حکومت سے لگتا ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں سے مل گئی ہے، آج پورے صوبے میں دہشتگردوں کا راج ہے۔امیر مقام نے کہا کہ آئین کے خلاف قانون سازی منظور نہیں، وزیراعلی سہیل آفریدی آئی جی پی اور چیف سیکرٹری کو اپنا ماتحت بنانا چاہتے ہیں، صوبائی حکومت آئی جی سے ڈی ایس پی تک پولیس پر کنٹرول چاہتی ہے، ایسے اقدامات سے پولیس کا مورال متاثر ہوگا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ راستے بند ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام مشکلات میں ہیں، وزیراعلی نے پہلے27 ستمبر کی تاریخ دی، ہمیں بھی پتا چلے کہ کتنی عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے۔