فرخ تنویر ملک
اسلام آباد۔۔۔۔ خیبر پختونخوا حکومت نے رورل روڈز ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے کے 18 اضلاع میں 980.9 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور 34 پلوں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے جو نومبر 2029 تک مکمل کیا جائے گا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس منصوبے کے لئے 105 ارب 45 کروڑ روپے (تقریبا 37 کروڑ امریکی ڈالر) کے قرض کی منظوری دی ہے۔ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 7 فروری 2024 کو منصوبے کی منظوری دی جبکہ قرضے کا معاہدہ 16 ستمبر 2024 کو طے پایا۔منصوبے کا مقصد صوبے کے 18 اضلاع میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا کر دیہی آبادی کی منڈیوں، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولتوں تک رسائی آسان بنانا ہے۔اس منصوبے پر عملدرآمد محکمہ مواصلات و تعمیرات خیبر پختونخوا کر رہا ہے جبکہ ایس ڈی این بی ایچ ڈی اور کری ایٹو انجینئرنگ کنسلٹنٹس پر مشتمل مشترکہ ادارہ نگرانی کے فرائض انجام دے رہا ہے۔سرکاری منصوبے کے مطابق 474.2 کلومیٹر سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی، 324.4 کلومیٹر دیہی رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور 182.3 کلومیٹر سیاحتی سڑکوں کی تعمیر و بہتری کی جائے گی جس سے منصوبے کے تحت مجموعی سڑکوں کی لمبائی 980.9 کلومیٹر ہو جائے گی۔اس کے علاوہ دور دراز اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں رابطے کو بہتر بنانے کے لیے 34 نئے پل بھی تعمیر کیے جائیں گے۔دستاویزات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کو سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کے لیے سب سے زیادہ 207.5 کلومیٹر کا حصہ ملا ہے جبکہ چترال کو مجموعی طور پر سب سے زیادہ 192.1 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی دی گئی ہے جس میں 153 کلومیٹر سیلاب سے متاثرہ سڑکیں، 22 کلومیٹر رابطہ سڑکیں اور 17.1 کلومیٹر سیاحتی سڑکیں شامل ہیں۔منصوبے میں شامل دیگر اضلاع میں کرک، کوہاٹ، بنوں، ملاکنڈ، چارسدہ، بونیر، صوابی، لوئر دیر، اپر دیر، سوات، شانگلہ، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، بٹگرام، ہری پور، مانسہرہ اور تورغر شامل ہیں۔لاگت کی تفصیلات کے مطابق 100 ارب 86 کروڑ روپے سول ورکس کے لیے مختص کیے گئے ہیں جن میں سڑکوں کی بحالی، سیاحتی راستوں کی تعمیر، پلوں کی تعمیر، یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی اور ہنگامی اخراجات شامل ہیں۔اس کے علاوہ 3 ارب 78 کروڑ روپے مشاورتی خدمات کے لیے جبکہ 81 کروڑ 30 لاکھ روپے منصوبے کے انتظام، ادارہ جاتی استعداد بڑھانے اور باغبانی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے مالی تعاون سے جاری یہ منصوبہ 25 نومبر 2029 تک مکمل کیا جائے گا جس سے صوبے کے دیہی علاقوں میں آمدورفت، تجارت، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔