عبدالجبار
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان نے زمین اور پانی کے استعمال کی منصوبہ بندی کا ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو غیر منصوبہ بند شہری پھیلا سے زرعی زمین کے تحفظ میں مدد مل سکے۔ ملک میں خوراک کی طلب 2050 تک کم از کم 50 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔2026 سے 2028 تک جاری رہنے والے اس منصوبے کا نام مربوط زمین اور پانی کے استعمال کی منصوبہ بندی کے ذریعے قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ اسے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور اقوام متحدہ کے ادارے خوراک و زراعت کے اشتراک سے نافذ کیا جائے گا۔ منصوبے کے اخراجات عالمی ادارہ خوراک و زراعت برداشت کرے گا اور حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔عالمی ادارہ خوراک و زراعت پاکستان کے پلاننگ مینیجر وقاص کریم کے مطابق اس منصوبے سے حکام کو یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ زرخیز زرعی زمین کہاں اور کس رفتار سے دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اس تبدیلی کا حجم کتنا ہے اور اس شواہد کی بنیاد پر زمین کے استعمال سے متعلق بہتر فیصلے کیسے کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کے اہم نتائج میں سے ایک ڈیجیٹل قومی زمین کے استعمال میں تبدیلی کا نقشہ تیار کرنا ہوگا جس میں بتایا جائے گا کہ 2005 سے 2025 کے دوران کتنی زرعی زمین کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور یہ تبدیلیاں کن علاقوں میں ہوئیں۔ اس میں یہ اندازہ بھی پیش کیا جائے گا کہ موجودہ طریقہ کار برقرار رہنے کی صورت میں 2047 تک زمین کے استعمال میں کس طرح تبدیلی آ سکتی ہے۔منصوبے کے تحت ایک مثالی علاقائی زوننگ فریم ورک بھی تیار کیا جائے گا جس سے یہ طے کرنے میں مدد ملے گی کہ کن علاقوں کو زرعی مقاصد کے لیے محفوظ رکھا جانا چاہیے اور زمین و پانی کے وسائل کا مربوط انداز میں انتظام کیسے کیا جائے۔ اس فریم ورک کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے سے پہلے تین اضلاع میں آزمایا جائے گا آزمائشی اضلاع کا انتخاب صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت سے تکنیکی ورکنگ گروپ کے ذریعے کیا جائے گا۔بڑے شہروں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری پھیلا کس تیزی سے زرعی زمین تک پہنچ رہا ہے۔ لاہور میں تعمیر شدہ رقبہ 2003 میں 470 مربع کلومیٹر سے بڑھ کر 2023 میں 956 مربع کلومیٹر ہو گیا، یعنی اس میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس اضافے میں تقریبا 325 مربع کلومیٹر رقبہ براہ راست زرعی زمین کی قیمت پر حاصل ہوا۔ملتان میں تعمیر شدہ زمین کا حصہ 1993 میں 9 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں 32 فیصد ہو گیا جبکہ زرعی زمین کا حصہ 76 فیصد سے کم ہو کر 66 فیصد رہ گیا۔ راولپنڈی میں 1990 سے 2020 کے دوران تعمیر شدہ رقبے میں 22.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔وقاص اعوان نے کہا کہ منصوبے میں زمین اور پانی کی منصوبہ بندی کو باہم منسلک مسائل کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ان کے مطابق دریائے سندھ کے طاس میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت میں کمی کی شرح 2002-15 کے دوران سالانہ منفی 0.65 سینٹی میٹر سے بڑھ کر 2015-22 میں سالانہ منفی 2.16 سینٹی میٹر ہو گئی جبکہ پاکستان کے 60 فیصد سے زیادہ پانی کی ضروریات زیر زمین ذخائر سے پانی نکال کر پوری کی جاتی ہیں۔منصوبے کا آغاز تکنیکی ورکنگ گروپ کے قیام اور مطلوبہ اعداد و شمار جمع کرنے سے ہوگا۔ پہلے سال قومی زمین کے استعمال میں تبدیلی کا نقشہ تیار کرنے، 2005 سے 2025 کے دوران زرعی زمین میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے اور 2047 تک زمین کے ممکنہ استعمال کا اندازہ لگانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے بعد زوننگ فریم ورک کو تین اضلاع میں آزمایا جائے گا جبکہ صوبوں سے مشاورت، تربیت اور وسیع تر پالیسی معاملات پر بات چیت دوسرے سال بھی جاری رہے گی۔عالمی ادارہ خوراک و زراعت پاکستان کے منصوبہ مینیجر نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ایسا عملی فریم ورک تیار کرنا ہے جسے منصوبے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی سرکاری ادارے استعمال کرتے رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین اضلاع میں آزمائش کے بعد اس فریم ورک کو فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اور صوبائی و قومی سطح پر زمین کے استعمال کی زوننگ کے لیے وسیع پیمانے پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔