نثاراحمد
کراچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ہمیں نئے صوبوں کے ناموں سے کوئی مسئلہ نہیں،اصل جنگ وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی ہے،سندھ کو 3حصوں میں تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟کیا 7 اضلاع بنانے سے کراچی ٹوٹ گیا، ایم کیو ایم انتظامی صوبے بنانے کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی،ہم لسانی بنیاد پر تقسیم کے خلاف ہیں ،انکا کہنا تھاحج و عمرہ زائرین کیلئے گردن توڑ بخار کی ویکسین کا سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی میں پاکستان کے پہلے انٹرنیشنل ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وفاقی وزیرِ صحت نے کراچی ایئرپورٹ پر فیڈرل گورنمنٹ ڈسپنسری کا دورہ کرتے ہوئے سینٹر کا باضابطہ افتتاح کیا ۔اس اقدام سے حج، عمرہ اور بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کو صحت سے متعلق تصدیق شدہ اور شفاف سہولیات میسر آئیں گی۔ بیرون ملک جانے اور پاکستان آنے والے بین الاقوامی مسافروں کو ضروری حفاظتی ٹیکوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ ملک سے باہر جانے اور بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے چاہییں، انہوں نے کہا کہ گردن توڑ بخار کی ویکسین کا سرٹیفکیٹ مسافروں کے پاس ہونا ضروری ہے، خصوصا حج اور عمرہ پر جانے والے افراد کے لیے یہ سرٹیفکیٹ اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر میں بین الاقوامی مسافروں کو ایک ہی جگہ پر ویکسینیشن کی سہولت میسر ہوگی، جس سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جاسکے گا۔اس موقع پر مصطفی کمال نے اپنی ایک پرانی ویڈیو پر ہونے والی تنقید کا بھی جواب دیا، انہوں نے کہا کہ وہ تقریبا 20 سے 21 سال پہلے بھی عوامی خدمت میں مصروف تھے اور اس وقت بھی انہیں رات گئے، بارش اور مشکل حالات میں سڑکوں اور ہسپتالوں میں کام کرتے دیکھا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عباسی شہید ہسپتال میں ان کے دور میں بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور مریضوں کے لیے مختلف سہولتیں فراہم کی گئیں، ان کے مطابق اس وقت ہسپتال میں اضافی بیڈز لگانے پڑے جبکہ بچوں کے لیے وینٹی لیٹر کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔اپنی پرانی ویڈیو سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی صورتحال کو مکمل تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک انسان ہیں، اس لیے غلط بات پر غصہ بھی آتا ہے، دکھ بھی ہوتا ہے اور خوشی بھی محسوس ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سانحے کے موقع پر ان کا غصہ اپنے لوگوں سے تھا کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا، مصطفی کمال نے کہا کہ سوشل میڈیا یا میڈیا پر پرانی ویڈیوز دکھا کر کسی واقعے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ صوبے بولیں یا انتظامی یونٹ ایم کیو ایم اپنے موقف پر قائم ہے، سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، کراچی سے کشمور تک 80 فیصد لوگوں کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف تیسری جنگ عظیم رکوا رہے ہیں اور دوسری طرف کتے کے کاٹنے سے بچے مر رہے ہیں، بھٹو کے بنائے گئے 1973 کے آئین میں نئے صوبوں کی گنجائش موجود ہے۔ مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ ہمیں نئے صوبوں کے ناموں سے کوئی مسئلہ نہیں،اصل جنگ وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی ہے،سندھ کو 3حصوں میں تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟کیا 7 اضلاع بنانے سے کراچی ٹوٹ گیا؟۔مصطفی کمال نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم انتظامی صوبے بنانے کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی،ہم لسانی بنیاد پر تقسیم کے خلاف ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کے آئین میں 27 ترامیم کر چکے ہیں، سندھ کو 3حصوں میں تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ پورا ملک کہہ رہا ہے کہ نظام مکمل طور پر گل سڑ چکا ہے،مسائل کے حل کے لیے بیٹھ کر بات کی جائے۔