کابل سے جاری بیان میں طالبان حکومت نے کہا کہ افغانستان کی زمین کے ایک انچ پر بھی کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا تھا کہ اگر طالبان نے بگرام ایئربیس امریکہ کو واپس نہ دی تو “برے نتائج” ہوں گے۔ انہوں نے اڈے کی اسٹریٹجک اہمیت اور چین سے قربت کو بھی نمایاں کیا تھا۔
بگرام اڈہ تقریباً دو دہائیوں تک افغانستان میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی مرکز رہا تھا لیکن 2021 میں امریکی انخلا کے بعد یہ طالبان کے قبضے میں آ گیا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکہ کو “حقیقت پسندی اور معقولیت” اپنانے کا مشورہ دیا اور یاد دلایا کہ دوحہ معاہدے کے مطابق امریکہ افغانستان کی علاقائی سالمیت کے خلاف دھمکی نہیں دے سکتا۔
دوسری جانب طالبان نے حالیہ دنوں میں امریکی سفیروں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا اعلان بھی کیا ہے، جسے تعلقات کو معمول پر لانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس تبادلے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔