اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق غزہ سٹی میں اسرائیلی فوج کی تازہ ترین یلغار بھی جنگ کے بڑے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیلی فوج یرغمالیوں کی بازیابی اور حماس کے خفیہ جنگجوؤں کو نشانہ نہیں بناتی، محض زمین پر قبضہ کرنے سے اسٹریٹجک نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے مارچ میں حکمتِ عملی بدلی اور یہ امید لگائی کہ غزہ کے بڑے حصے پر قبضہ حماس پر دباؤ ڈالے گا۔ تاہم، حماس کے رہنما جانتے تھے کہ جب تک 20 یرغمالی زندہ ہیں، اسرائیل پر ان کی برتری برقرار ہے۔ اسی لیے زمین کھونے کے باوجود حماس اپنی شرائط پر قائم رہی۔
اخبار کے مطابق، اسرائیل نے یہ بھی سوچا کہ بڑے بڑے عمارتوں کو تباہ کر کے حماس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن کئی ہفتوں کے بعد بھی حماس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
مزید کہا گیا کہ تقریباً 5 لاکھ شہریوں کے غزہ سٹی چھوڑنے کے باوجود حماس کے زیادہ تر جنگجو بھی وہاں سے نکل چکے ہیں، جس سے اسرائیلی افواج کے لیے فیصلہ کن کارروائی مشکل ہو گئی ہے۔ اخبار کے مطابق 2025 میں روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فوج کی رپورٹیں صرف چند جنگجوؤں کے مارے جانے یا ہتھیار ضبط کرنے تک محدود رہی ہیں۔
تجزیہ مزید کہتا ہے کہ یرغمالیوں کا مسئلہ صرف دو طریقوں سے حل ہو سکتا ہے: یا تو اسرائیل ایک معاہدے کے ذریعے انہیں رہا کروائے، یا پھر ایک بڑے خصوصی آپریشن کے ذریعے۔ اسی طرح حماس کو مکمل شکست دینے کے لیے یا تو غزہ کے شہریوں کی سختی سے چھان بین کرنی ہوگی یا برسوں تک غزہ میں چھاپہ مار کارروائیاں جاری رکھنی ہوں گی۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے ان میں سے کوئی راستہ اختیار نہ کیا تو صرف غزہ سٹی پر قبضہ کر کے اس کے جنگی اور اسٹریٹجک مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔