عبد الجبار
واشنگٹن ۔۔۔۔۔۔۔امریکا نے ایسے غیر ملکی افراد اور تجارتی نیٹ ورکس کے خلاف نئی ویزا پابندیوں کا اعلان کیا ہے جو مبینہ طور پر بچوں کی پیدائش کے مقصد سے غیر ملکی شہریوں کو امریکا لانے، ویزا فراڈ میں مدد دینے یا اس عمل سے مالی فائدہ اٹھانے میں ملوث ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امریکی شہریت کے نظام، عوامی وسائل اور ٹیکس دہندگان کے مفادات کا تحفظ ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق نئی پالیسی ان افراد کو ہدف بنائے گی جو جان بوجھ کر امریکا میں بر تھ ٹورزم میں حصہ لیتے ہیں، پہلے اس میں ملوث رہے ہیں یا دوسروں کو اس مقصد کے لیے سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس میں تجارتی برتھ ٹورزم نیٹ ورکس کے مالکان، منتظمین اور آپریٹرز کے علاوہ ایسے ویزا ایجنٹ یا فکسرز بھی شامل ہو سکتے ہیں جو درخواست دہندگان کو امریکی ویزا حاصل کرنے کے لیے غلط بیانی یا فراڈ کی تربیت دیتے ہیں۔پالیسی میں ان غیر ملکی طبی سہولت فراہم کرنے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو امریکی حکام کے مطابق جان بوجھ کر ایسی سفری سرگرمیوں میں مدد کرتے ہیں یا مبینہ طور پر میڈیکیڈ نظام کے غلط استعمال میں معاونت کرتے ہیں۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے دیگر افراد بھی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو تجارتی برتھ ٹورزم کو سہولت، معاونت یا مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔برتھ ٹورزم سے مراد کسی دوسرے ملک کا سفر اس مقصد سے کرنا ہے کہ وہاں بچے کو جنم دیا جائے۔ امریکا کے معاملے میں اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچوں کو عام طور پر پیدائش کے ذریعے امریکی شہریت حاصل ہوتی رہی ہے۔ بعض افراد کے لیے بیرون ملک سے امریکا آنے کا مقصد بچے کے لیے یہ شہریت حاصل کرنا ہوتا ہے، جبکہ بعض معاملات میں طبی سہولت بھی سفر کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔یہ پابندیاں امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی دفعہ (C)(3)(a)212 کے تحت عائد کی جا رہی ہیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق بعض حالات میں متعلقہ افراد کے خاندان کے کچھ ارکان بھی ان پابندیوں کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔