لیبر مارکیٹ کو دوہرا دھچکا لگنے کا خطرہ

عبدالجبار

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔مشرق وسطی میں جاری طویل تنازع کے باعث اگر لاکھوں نئے پاکستانی کارکنوں کی بیرون ملک منتقلی رک جاتی ہے اور پہلے سے خلیجی ممالک میں موجود پاکستانی کارکنوں کو وطن واپس آنا پڑتا ہے تو پاکستان کو لیبر مارکیٹ میں دوہرے دھچکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ماہرین اقتصادیات نے بیرون ملک روزگار کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش اور ملک کے اندر روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق مشرق وسطی ہر سال تقریبا 7 سے 8 لاکھ پاکستانی کارکنوں کو روزگار فراہم کرتا ہے اور پاکستان کی مجموعی ترسیلات زر میں اس خطے کا حصہ تقریبا 54 فیصد ہے۔ اس وقت تقریبا 60 لاکھ پاکستانی خطے میں کام کر رہے ہیں۔تحقیق کے مطابق اگر تنازع جاری رہتا ہے تو رواں سال تقریبا 5 لاکھ پاکستانی کارکن بیرون ملک جانے سے محروم رہ سکتے ہیں، جبکہ 5 لاکھ سے زائد موجودہ کارکنوں کے وطن واپس آنے کا امکان ہے۔ یہ دونوں صورتیں مل کر پاکستان کی مقامی لیبر مارکیٹ پر نمایاں دبا ڈال سکتی ہیں۔یہ ممکنہ دھچکا اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بیرون ملک روزگار نے تاریخی طور پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے لیے ایک اہم راستہ فراہم کیا ہے۔ 2010 سے 2024 کے دوران تقریبا 80 لاکھ پاکستانی کارکنوں کو مشرق وسطی میں روزگار ملا، جو اس عرصے کے دوران لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والے 2 کروڑ 59 لاکھ نئے افراد کا تقریبا ایک تہائی ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x