نثار احمد
لندن ۔۔۔۔برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے ایک سکول میں چاقو بردار طالبہ کے حملے کے دوران پاکستانی نژاد بہادر استاد میثم عبداللہ نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے بچوں کے سامنے ڈھال بن کر ان کی زندگی بچا لی۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں واقع کوآپ اکیڈمی مانچسٹر میں چاقو زنی کے ایک خوفناک واقعے کے دوران پاکستانی نژاد برطانوی استاد 27 سالہ میثم عبداللہ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر درجنوں طلبہ کو موت کے منہ سے نکال لیا، سکول پر ہونے والے اس ناگہانی حملے کے دوران میثم عبداللہ نے حملہ آور کے سامنے آ کر بچوں کو محفوظ رکھا اور خود شدید زخمی ہو گئے، برطانوی عوام اور میڈیا کی جانب سے انہیں اس وقت ایک عظیم سپر ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکیڈمی کے اندر اس وقت ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی جب اچانک ایک چاقو بردار نے وہاں موجود طلبہ پر حملہ کر دیا، جس سے کلاس رومز اور ہال میں موجود طلبہ میں خوف و ہراس پھیل گیا، لیکن 27 سالہ پاکستانی نژاد استاد میثم عبداللہ نے پیچھے ہٹنے یا اپنی جان بچانے کے بجائے فوری طور پر آگے بڑھ کر دیوانہ وار بچوں کو اپنے پیچھے چھپایا اور خود حملہ آور کے آگے کھڑے ہو گئے۔ اس دلیرانہ اقدام کے دوران میثم عبداللہ چاقو کے وار لگنے سے زخمی ہو گئے، جبکہ ان کے علاوہ 14 سال کے دو طالب علموں کو بھی چوٹیں آئیں، تمام زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد دونوں طلبہ کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے، مانچسٹر پولیس نے واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے سکول کے اندر سے ہی حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔ رپوٹر کے مطابق سکول کے اندر چاقو سے قتل عام کی کوشش کرنے والی کوئی پیشہ ور مجرم نہیں بلکہ محض ایک 14 سالہ لڑکی ہے، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ پر اقدامِ قتل کے 3 الزامات اور اسکول کی حدود میں دھار دار اسلحہ/چاقو رکھنے کے 2 الزامات کے تحت باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی ہے، گریٹر مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی حساسیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیس کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔