مشرقی و مغربی پنجاب میں تباہ کن سیلاب، برصغیر میں غذائی بحران کے خدشات

لاہور/ چندی گڑھ، 17 ستمبر 2025: پاکستان اور بھارت کے پنجاب میں حالیہ شدید مون سون بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے ہزاروں دیہات، کھیتوں اور مویشیوں کو ملیامیٹ کر دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس تباہی کے اثرات سرحد کے دونوں جانب غذائی بحران کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے زرعی علاقوں میں کھیت پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، دھان کی فصلیں مرجھا گئی ہیں اور فضا میں گلتی سڑتی فصلوں اور مویشیوں کی لاشوں کی بدبو پھیلی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق اس بار فصلوں کو پہنچنے والا نقصان کئی دہائیوں میں سب سے بڑا ہے، جس سے اجناس کی پیداوار میں نمایاں کمی اور قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس اچانک آنے والے سیلابوں سے 950 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف پنجاب میں ہی ہزاروں ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب ہے، جبکہ سیلابی ریلے اب سندھ کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس سے اجناس کی قلت اور مہنگائی کے مزید دباؤ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کپاس کی فصل کا 30 فیصد، چاول کا 60 فیصد سے زائد اور گنے کا تقریباً 35 فیصد نقصان ہو چکا ہے۔ زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کا 24 فیصد حصہ ہے اور مجموعی طور پر 45 فیصد روزگار اسی پر انحصار کرتا ہے۔ کپاس اور چاول کی برآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے یہ نقصان شدید دھچکے کا باعث بنے گا۔

بھارت میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق اگست میں پنجاب میں اوسط سے دو تہائی زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 52 افراد ہلاک اور چار لاکھ سے زائد متاثر ہوئے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے متاثرہ ریاست کے لیے 18 کروڑ ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی وزیراعلیٰ نے اس تباہی کو ’’کئی دہائیوں کی بدترین آفت‘‘ قرار دیا ہے۔

انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں میں فصلوں کی تباہی کا سب سے بڑا اثر باسمتی چاول کی پیداوار اور برآمدات پر پڑے گا۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ اور برآمدی کمی ناگزیر ہے۔ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے نے بھارتی باسمتی کو پہلے ہی غیر مسابقتی بنا دیا تھا، اب سیلاب نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

کسانوں کی حالت بھی نہایت کربناک ہے۔ بھارتی پنجاب کے رہائشی 70 سالہ بلکار سنگھ نے کہا: ’’ایسا سیلاب ہم نے آخری بار 1988 میں دیکھا تھا۔ پانی نے کھیتوں کو دلدل بنا دیا ہے، مویشی بہہ گئے اور گھروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔‘‘ پاکستانی سرحدی گاؤں کے کسانوں کا کہنا ہے کہ کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور آئندہ گندم کی بروقت بوائی بھی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کے اندرونی ذخائر بڑے پیمانے پر موجود ہیں، تاہم پاکستان اور بھارت دونوں کی برآمدات پر اس تباہی کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی غذائی منڈی پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x