فرخ تنویرملک
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام پی ایس ڈی پی کے اخراجات مالی سال 2025-26 کے جولائی تا جون عرصے کے دوران 916.02 ارب روپے تک پہنچ گئے جو 820.50 ارب روپے کی منظور شدہ رقم سے 11.6 فیصد زیادہ ہیں۔ترقیاتی پروگرام کی شعبہ وار تفصیل کے مطابق وفاقی وزارتوں نے مجموعی طور پر 611.10 ارب روپے خرچ کیے۔ ان کے لیے مختص رقم 565.14 ارب روپے تھی جبکہ 565.12 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔اداروں، جن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بجلی شعبے کے این ٹی ڈی سی اور پیپکو شامل ہیں، نے مجموعی طور پر 304.92 ارب روپے خرچ کیے، جبکہ ان کے لیے مختص اور منظور شدہ رقم 255.37 ارب روپے تھی۔وفاقی وزارتوں میں صوبوں اور خصوصی علاقوں کے شعبے نے سب سے زیادہ 192.56 ارب روپے خرچ کیے۔ اس شعبے کے لیے 195.38 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ 195.37 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔آبی وسائل کے شعبے نے 137.49 ارب روپے خرچ کیے، جبکہ اس کے لیے مختص اور منظور شدہ رقم 101.64 ارب روپے تھی۔کابینہ ڈویژن نے 59.43 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 63.24 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔ ریلوے ڈویژن نے 35.14 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کی مختص اور منظور شدہ رقم 18.56 ارب روپے تھی۔ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 34.90 ارب روپے استعمال کیے جبکہ اس کے لیے 34.91 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔ وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن کے اخراجات 27.04 ارب روپے رہے، جبکہ اس کے لیے 26.81 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات ڈویژن نے 19.07 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 19.30 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔ داخلہ ڈویژن نے 15.23 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 15.52 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔محصولات ڈویژن نے 14.81 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 12.21 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔ ہاسنگ اور تعمیرات ڈویژن نے 13.93 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 14.24 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔قومی صحت خدمات، ضابطہ کاری اور رابطہ کاری ڈویژن کے اخراجات 12.97 ارب روپے رہے جبکہ اس کے لیے 13.14 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات ڈویژن نے 9.37 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 10.12 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔ دفاع ڈویژن نے 8.29 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 8.32 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔اداروں میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے 182.36 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 182.23 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔ بجلی ڈویژن، جس میں این ٹی ڈی سی اور پیپکو شامل ہیں، نے 122.55 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 73.14 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔صنعت و پیداوار ڈویژن نے 5.46 ارب روپے خرچ کیے جبکہ اس کے لیے 5.78 ارب روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے۔ اطلاعات و نشریات ڈویژن کے اخراجات 3.27 ارب روپے رہے۔ سائنس اور تکنیکی تحقیق ڈویژن نے 3.32 ارب روپے خرچ کیے۔دستاویز کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کاری ڈویژن نے 2.28 ارب روپے، خزانہ ڈویژن نے 1.92 ارب روپے، قومی غذائی تحفظ اور تحقیق ڈویژن نے 1.54 ارب روپے، جبکہ قانون و انصاف ڈویژن نے 1.39 ارب روپے خرچ کیے۔تجارت ڈویژن نے 50 ملین روپے خرچ کیے، جو اس کے لیے مختص اور منظور شدہ رقم کے برابر تھے۔ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی ڈویژن کے لیے 49.62 ملین روپے مختص اور منظور کیے گئے تھے، تاہم اس مد میں کوئی خرچ ظاہر نہیں کیا گیا۔