فرخ تنویرملک
برلن۔۔۔۔۔۔۔ یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی وولکس ویگن کے سپروائزری بورڈ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او)اولیور بلوم کے تاریخی ری اسٹرکچرنگ پلان کی منظوری دے دی ۔ منصوبے کے تحت کمپنی بھر میں مزید 50,000 ملازمین کی چھانٹیاں کی جائیں گی اور گاڑیوں کے ماڈلز کی تعداد میں نمایاں کمی لائی جائے گی۔ اس نئے فیصلے کے بعد 2024 سے اب تک ختم کی جانے والی ملازمتوں کی کل تعداد 1,00,000 تک پہنچ جائے گی، جو کہ آٹو انڈسٹری کی تاریخ میں ملازمتوں کی بڑی کٹوتیوں میں سے ایک ہے۔ یہ فیصلہ جرمنی میں شدید تنقید، معاشی بحران اور چینی کار ساز کمپنیوں سے بڑھتے ہوئے سخت مقابلے اور ڈیمانڈ میں کمی کے بعد سامنے آیا ہے۔ نئے پلان کے تحت کمپنی 2035 تک اپنے مختلف ماڈلز کی تعداد میں 50 فیصد تک کمی کرے گی۔ برطرفیوں میں سے تقریبا آدھی ملازمتیں خود جرمنی کے پلانٹس میں متاثر ہوں گی۔ بورڈ نے ایمڈن، زویکا، ہینور اور نکارسلم کے چار جرمن پلانٹس کے مستقبل کو غیر یقینی قرار دیا ہے، تاہم فی الحال کسی پلانٹ کو فوری بند نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کے متبادل استعمال پر غور جاری ہے۔