پاکستانی گھرانوں کو غذائی قلت اور غیر متوازن خوراک کے مسئلے کا سامنا

نثار احمد

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں خوراک، رہائش اور بنیادی سہولیات پر ہونے والے اخراجات گھریلو بجٹ کا تقریبا دو تہائی حصہ لے جاتے ہیں جس کے باعث کم آمدنی والے خاندانوں کی قوتِ خرید متاثر ہونے پر انہیں غذائی قلت اور غیر متوازن خوراک کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان کے گھریلو مربوط معاشی سروے 2024-25 کے مطابق گھرانوں کے مجموعی اخراجات میں خوراک کا حصہ تقریبا 37 فیصد ہے، جبکہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن پر مزید 26 فیصد خرچ ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروریاتِ زندگی پر اخراجات کا اتنا بڑا حصہ مختص ہونے کے باعث مالی مشکلات کا شکار گھرانے بنیادی کیلوریز کی ضرورت پوری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن نسبتا مہنگی پروٹین اور جسم کے لیے ضروری غذائی اجزا سے بھرپور خوراک کا استعمال کم کردیتے ہیں۔یہ مسئلہ عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے تازہ تخمینوں کے بعد مزید اہم ہوگیا ہے، جن کے مطابق 2025 میں ایک فرد کے لیے صحت بخش خوراک کی عالمی اوسط لاگت قوتِ خرید کے لحاظ سے 4.28 ڈالر روزانہ تھی، جبکہ دنیا بھر میں تقریبا 2.7 ارب افراد ایسی خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے شعبہ تحقیق کے سربراہ عنایت اللہ کے مطابق پاکستان کو اب صرف کیلوریز کی کمی کا مسئلہ درپیش نہیں بلکہ خوراک کے معیار کا مسئلہ بھی تیزی سے سنگین ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گھرانے غالبا اپنی توانائی کی بنیادی ضروریات تو پوری کر رہے ہیں، لیکن پروٹین اور ضروری غذائی اجزا سے بھرپور خوراک کا استعمال بتدریج کم کررہے ہیں۔انہوں نے خوراک کے اخراجات میں مٹن کے کم ہوتے ہوئے حصے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ قومی سطح پر خوراک کے مجموعی اخراجات میں مٹن کا حصہ مالی سال 2018-19 کے تقریبا 2.2 فیصد سے کم ہوکر 2024-25 میں تقریبا 1.8 فیصد رہ گیا۔ سب سے کم آمدنی والے 20 فیصد گھرانوں میں اس کا حصہ صرف تقریبا 0.3 فیصد تھا۔ حقیقی قوتِ خرید میں کمی کا سامنا کرنے والے گھرانے ابتدا میں کیلوریز کم نہیں کرتے بلکہ اپنی خوراک میں تنوع کم کردیتے ہیں، کیونکہ بنیادی غذائیں کم قیمت میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ رہائش اور بجلی، گیس سمیت دیگر بنیادی سہولیات کے اخراجات بڑی حد تک ناگزیر ہوتے ہیں، جس سے گھرانوں کے لیے بجٹ میں ردوبدل کی گنجائش مزید محدود ہوجاتی ہے۔ چنانچہ آمدنی میں کمی، بیماری، زرعی نقصان یا ضروری اخراجات میں اضافے کی صورت میں خوراک کا معیار خاندان کے بجٹ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ بن جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے سب سے سنگین اثرات بچوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور معذوری کا سامنا کرنے والے افراد پر پڑتے ہیں، کیونکہ خوراک میں تنوع کی کمی ان کی صحت اور نشوونما کو زیادہ متاثر کرسکتی ہے۔عنایت اللہ نے غذائیت سے منسلک سماجی مالی معاونت، صحت بخش خوراک کی لاگت کی باقاعدہ نگرانی، کولڈ چین کے نظام میں سرمایہ کاری اور مویشی، مرغی، دالوں، دودھ، پھلوں اور سبزیوں کی لاگت کم کرنے کے لیے اصلاحات کی تجویز دی۔انہوں نے زرعی مراعات کو غذائی ضروریات کے ساتھ زیادہ مربوط کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ایسی فصلوں کے بجائے دالوں، باغبانی اور دودھ کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو بنیادی طور پر صرف کیلوریز فراہم کرتی ہیں۔ ماہرین نے صحت بخش خوراک کے حصول کی استطاعت کی باقاعدہ نگرانی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پالیسی سازوں کو اس بات کی زیادہ واضح تصویر مل سکے کہ گھرانے غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی کتنی استطاعت رکھتے ہیں۔ان کے مطابق موجودہ گھریلو مربوط معاشی سروے اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں سے متعلق اعداد و شمار کو استعمال کرکے صوبوں اور مختلف آمدنی والے طبقوں کے لیے کم سے کم غذائیت بخش خوراک کی لاگت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، جس کے لیے سرکاری اخراجات میں بہت بڑے اضافے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x