نثاراحمد
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے تیزی سے پھیلتے نظام سے معاشی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور شفافیت بہتر بنانے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافے کو معیشت کی وسیع تر دستاویز بندی میں تبدیل کرنے کے لیے تاجروں کی زیادہ شمولیت، عوام کا اعتماد اور کاروباری اداروں کو نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف منتقل ہونے کے لیے مراعات دینا ضروری ہوگا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ویژن 2028 اور وزیراعظم کے کیش لیس پاکستان اقدام کے تحت ملک میں نقد رقم پر انحصار کم کرنے اور ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ جولائی 2026 تک موبائل بینکاری صارفین کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ چکی تھی، جبکہ ڈیجیٹل لین دین کی تعداد 11.9 ارب رہی۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پاکستان کے ایک دیرینہ معاشی مسئلے، یعنی بڑی مقدار میں تجارتی سرگرمیوں کے غیر رسمی نظام سے باہر رہنے، سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے زیادہ استعمال سے لین دین کا ریکارڈ بنتا ہے، جس سے معاشی سرگرمیاں زیادہ نمایاں اور معیشت کو زیادہ دستاویزی بنانا ممکن ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی بڑی غیر رسمی معیشت کے باعث معاشی سرگرمیوں کا ایک نمایاں حصہ رسمی نظام سے باہر ہے، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا وسیع استعمال معاشی سرگرمیوں کی دستاویز بندی اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد بہتر بنا سکتا ہے ڈیجیٹل ادائیگیوں سے حکومتی رقوم کی منتقلی میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کو کم کرنے اور نقد رقم سنبھالنے سے متعلق انتظامی اخراجات گھٹانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔۔ تاجروں کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے راست کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا بنیادی ڈھانچہ تیار کر لیا ہے، تاہم چھوٹے کاروبار اس وقت ڈیجیٹل ادائیگیوں کو زیادہ تیزی سے اختیار کریں گے جب یہ نقد رقم کے مقابلے میں قابلِ اعتماد، کم خرچ اور کاروباری لحاظ سے زیادہ سہل ہوں گی۔ماہرین کے مطابق فراڈ، لین دین کے ناکام ہونے، ادائیگی کی لاگت اور شکایات کے حل کے طریقہ کار کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اب بھی بعض تاجروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں سے دور رکھتی ہے، حتی کہ ان کے پاس اسمارٹ فون اور ڈیجیٹل اکائو نٹس موجود ہوں۔ ڈیجیٹل نظام کے فروغ سے پاکستان میں پہلے سے غیر دستاویزی معاشی سرگرمیوں کو ریکارڈ میں لانے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور حکومتی آمدن میں اضافہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ چھوٹے کاروباروں کے لیے شفافیت اور رسمی قرضوں تک رسائی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔تاہم ڈیجیٹل نظام کو صرف ٹیکس وصولی کے ذریعے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف، قابلِ پیش گوئی اور ٹیکس دہندگان کے لیے آسان بنانا بھی ضروری ہے تاکہ رسمی معیشت میں شامل ہونے والے کاروباروں کا اعتماد بحال ہو۔