فرخ تنویر ملک
لاہور: حکومتِ پنجاب نے طلبہ کی سفری سہولیات کو بہتر اور ماحول دوست بنانے کے لیے “چیف منسٹر پنجاب یوتھ انیشیٹو” کے فیز-2 کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس گرین انیشیٹو کے تحت صوبہ بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو 1,00000 الیکٹرک اسکوٹیز فراہم کی جائیں گی، جس کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 4 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ ترانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کے مطابق اس منصوبے میں طلبہ پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے حکومتِ پنجاب فی بائیک 90,000 روپے کی کیپیٹل سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ طلبہ بغیر کسی ڈاؤن پیمنٹ کے، صفر فیصد سود پر 3 سال کی آسان اقساط (تقریباً 3,000 روپے ماہانہ) پر ای بائیک حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن، انشورنس، ٹوکن ٹیکس، مفت ہیلمٹ اور سیفٹی راڈز کی تمام تر لاگت بھی حکومت خود برداشت کرے گی۔
اسکیم میں اپلائی کرنے کے لیے طالب علم کی کم از کم عمر 16 سال ہونی چاہیے اور اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس، لرنر پرمٹ یا جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ ہونا لازمی ہے۔ 16 سال کے طلبہ اپنے سرپرست کے ساتھ قریبی سہولت سینٹر سے جووینائل لائسنس بنوا سکتے ہیں۔ اپلائی کرنے کے لیے طالب علم کے سرپرست کا قومی شناختی کارڈ اور آمدن کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا جبکہ درخواست میں درج موبائل نمبر بھی ضامن کے نام پر ہونا لازمی ہے۔ تمام خواہش مند طلبہ حکومتِ پنجاب کے رسمی ویب پورٹل (bikes.punjab.gov.pk) کے ذریعے آن لائن درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں، جس کے بعد دستاویزات کی تصدیق اور منظوری کے مرحلے سے گزر کر بائیک کی ڈلیوری ممکن بنائی جائے گی۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے تعاون سے شروع کی جانے والی یہ ای بائیکس LiFePO4 بیٹری تکنیک، 1000 واٹ موٹر، ڈجیٹل ڈسپلے اور 50 سے 55 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے لیس ہیں۔ چیف منسٹر پنجاب یوتھ انیشیٹو کا بنیادی مقصد طلبہ خصوصاً لڑکیوں کو بااختیار بنانا اور صوبے میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے رجحان کو فروغ دینا ہے