ساہیوال (نمائندہ خصوصی) — دریائے راوی کے کنارے 18-C/7R کا گاؤں جب پانی میں ڈوبا تو سب کچھ بکھرنے کو تھا۔ لیکن اس ہنگامے میں ایک فرد ابھرا جو کمیونٹی کے اعتماد اور رشتوں کی طاقت سے محض ایک نوجوان نہ رہا، بلکہ ایک ایسا سہارا بن گیا جس نے درجنوں خاندانوں کو نئی زندگی دی۔ یہ ہے پیراں دتہ کی کہانی — ایک فرد جو کمیونٹی بندھن کے سبب ادارہ بن گیا۔





پہلا لمحہ: فون کال اور دوڑ
30 اگست 2025 کو پیراں دتہ کو کزن عبدالمجید نے فون کیا: ’’بھائی جان، پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے، آ جاؤ، ہمیں یہاں سے نکالو۔‘‘ چیچاوطنی شہر میں کام پر موجود پیراں دتہ لمحہ ضائع کیے بغیر گاؤں کی طرف دوڑا۔ ٹریکٹر ٹرالی کرائے پر لی اور دریا کنارے پہنچا، جہاں لوگ بسترے، چارپائیاں، بھڑولے اور مویشی سمیٹنے کی تگ و دو میں تھے۔
پیراں دتہ نے پہلا سفر اپنے خاندان کے ساتھ کیا، پھر پلٹا اور مزید پانچ خاندانوں کو محفوظ مقام تک لایا۔ کچھ کو دوستوں کے ڈیرے پر جگہ ملی، کچھ کو کرائے کے مکان میں، اور کچھ کو جاننے والوں کے صحن میں۔ اس کے گاؤں 110/7-آر نے کھلے دل سے سب کو سہارا دیا۔
اگرچہ حکومت نے گورنمنٹ ہائی اسکول میں تین خیمے لگا کر فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیا، لیکن زیادہ تر متاثرین وہیں ٹھہرے جہاں انسانی رشتے کام آئے۔ جب 10 ستمبر کو سرکاری کیمپ بھی بند ہو گیا تو حالات مزید کٹھن ہو گئے، مگر کمیونٹی نے ہمت نہ ہاری۔ مقامی تاجر اور سماجی کارکن وقتی چارہ لاتے رہے، لیکن اصل بوجھ پیراں دتہ اور اس جیسے بے لوث لوگوں نے اٹھایا۔
سیلاب کے بعد تیرہ چودہ دنوں تک پیراں دتہ محض اپنے خاندان کے لیے نہیں بلکہ پورے گاؤں کے لیے کھڑا رہا۔ آج 110/7-آر میں لوگ اسے محض ایک شخص نہیں بلکہ ایک ’’ادارہ‘‘ کہتے ہیں، جو کمیونٹی رشتوں کا استعارہ ہے۔ اس کے کزن کے الفاظ میں: ’’ہماری جان اور مال بچانے میں پیراں دتہ اور اہل دیہ کی خدمت ہی اصل ریلیف تھی۔‘‘
پیراں دتہ استعارہ ہے اس حقیقت کا کہ سرکاری نظام اکثر تاخیر یا بدانتظامی کا شکار رہتا ہے۔ لیکن آفات کے دوران مقامی لوگ اور کمیونٹی ڈھانچے فوری ردعمل کی اصل صلاحیت رکھتے ہیں۔ پیراں دتہ کی مثال ثابت کرتی ہے کہ جب کمیونٹی ایک فرد کو سہارا دیتی ہے، تو وہ فرد اکیلا نہیں رہتا بلکہ ایک ادارہ بن جاتا ہے۔