چارسالوں کے دوران صنفی تشدد کے 2 لاکھ سے زائد واقعات

فرخ تنویرملک

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرپرسن آسیہ ناز تنولی کی زیر صدارت ہوا، جس میں نیشنل کمیشن برائے اسٹیٹس آف ویمن حکام نے چائلڈ میرج ایکٹ، کرسچن میریج ایکٹ اور خواتین کو درپیش مسائل پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں ممبر کمیٹی نوید عامر نے کہا کہ پاکستان میں تمام شہری، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا مسلک سے ہو، ملکی قوانین کے پابند ہیں، انہوں نے کہا کہ 1872 کے کرسچن میریج ایکٹ میں لڑکے اور لڑکی کی عمر 18 سال مقرر ہے، تاہم اس قانون میں طلاق کا واضح طریقہ موجود نہیں۔
نوید عامر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے اور کمیٹی کسی فنڈز یا دیگر معاملات کے لیے نہیں بلکہ اپنی کمیونٹی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مسیحی افراد اپنی ضرورت کے مطابق قانون کی ایک لائن کو استعمال کرتے ہیں۔
کمیٹی چیئرپرسن نے نیشنل کمیشن حکام کو ہدایت کی کہ چاروں صوبوں میں شادی کی عمر کے حوالے سے یکساں قانون ہونا چاہیے۔ نوید عامر نے کہا کہ اگر نادرا عمر کا تعین کرتا ہے تو پھر کسی میڈیکل بورڈ کو اس فیصلے پر اعتراض کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
قائمہ کمیٹی میں ریپ کیسز اور صنفی بنیاد پر تشدد کے معاملات بھی زیر غور آئے۔ نیشنل پولیس بیورو کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران ملک میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 2 لاکھ سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2025 میں گھریلو تشدد کے تحت قتل کے 1332 اور زخمی کرنے کے 2912 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ غیرت کے نام پر قتل کے 470 کیسز سامنے آئے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں جنسی تشدد کے 3815 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گینگ ریپ کے واقعات کی تعداد 983 رہی۔ اسی عرصے میں حراستی زیادتی کے 69 اور جسمانی تشدد کے 223 واقعات رپورٹ ہوئے۔
بریفنگ کے مطابق سندھ میں سزا دلوانے کی شرح 22 فیصد تک پہنچ گئی، بلوچستان میں تقریباً 12 فیصد، اسلام آباد میں 6.9 فیصد، خیبرپختونخوا میں تقریباً 6 فیصد جبکہ پنجاب میں تقریباً 4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x