فرخ تنویرملک
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کی جوتوں کی صنعت کو فروغ ملنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ چین کے ہواشین (شینزن) انویسٹمنٹ گروپ نے پاکستان کے فارورڈ گروپ کے تعاون سے سپورٹس شوزکے 16 پیداواری یونٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات میں تنوع کے امکانات پیدا ہوں گے۔تعاون کا معاہدہ اسلام آباد میں ہواشین کے چیئرمین لیا یی چوان اور فارورڈ گروپ کے چیئرمین خواجہ مسعود اختر کے درمیان ہوا۔ منصوبے کے تحت پاکستان میں جوتوں اور ملبوسات کی تیاری کا مرکز قائم کیا جائے گا، کھیلوں کے جوتوں کی 16 پیداواری لائنوں سے سالانہ کروڑوں جوڑے تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔مجوزہ سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان جوتوں کی زیادہ مقدار برآمد کر رہا ہے لیکن فی جوڑا حاصل ہونے والی آمدنی کم ہو رہی ہے۔ وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان نے 2 کروڑ 34 لاکھ 65 ہزار جوڑے برآمد کیے جن کی مالیت 17 کروڑ 56 لاکھ 50 ہزار ڈالر رہی جبکہ گزشتہ مالی سال میں 1 کروڑ 90 لاکھ 49 ہزار جوڑے 17 کروڑ 64 لاکھ 80 ہزار ڈالر میں برآمد کیے گئے تھے۔برآمدی حجم میں 23.18 فیصد اضافہ ہوا تاہم آمدنی میں 0.47 فیصد کمی آئی جس کے نتیجے میں فی جوڑے کی اوسط مالیت 9.3 ڈالر سے کم ہو کر 7.5 ڈالر رہ گئی۔ یہ اعداد و شمار زیادہ مالیت کی مصنوعات کی تیاری اور پیداواری صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔شعبے کے اندر چمڑے کے جوتوں کی برآمدات 5.22 فیصد کمی کے ساتھ 13 کروڑ 3 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہ گئیں جبکہ دیگر اقسام کے جوتوں کی برآمدات 19.63 فیصد اضافے سے 4 کروڑ 36 لاکھ 40 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں جس سے پاکستان کی جوتوں کی برآمدات میں مصنوعات کی نوعیت میں تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔مجوزہ چینی سرمایہ کاری کھیلوں سے متعلق مصنوعات کی تیاری میں پاکستان کی موجودگی کو اس کی روایتی مضبوطی سے آگے بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں کھیلوں کی مصنوعات کی برآمدات 10.08 فیصد اضافے سے 42 کروڑ 43 لاکھ 50 ہزار ڈالر رہیں جبکہ فٹ بال کی برآمدات میں 11.72 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 25 کروڑ 67 لاکھ 20 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں۔دوسری جانب پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں چمڑے کی مصنوعات کے وسیع تر شعبے میں 2.25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس سے اس شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور مصنوعات میں تنوع کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔