چین میں ہمالیہ کے پہاڑوں میں آتش بازی پر ہنگامہ

ہانگ کانگ: ہمالیہ کی برف پوش وادیوں میں رنگ برنگی آتش بازی کے مناظر نے عالمی شہرت یافتہ آؤٹ ڈور برانڈ آرکٹریکس اور چینی نژاد آرٹسٹ کائی گواچیانگ کو کڑی تنقید اور معافی پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ مظاہرہ، جسے “رائزنگ ڈریگن” کا نام دیا گیا، تبت کے علاقے شیگاتسے میں 5,500 میٹر (18,000 فٹ) بلندی پر جمعہ کے روز کیا گیا۔ ویڈیو میں آتش بازی کے دھماکوں کو ایک لمبی پٹّی کی صورت میں دکھایا گیا جو ڈریگن کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ یہ ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا سے ہٹا دی گئی۔

تاہم چینی سوشل میڈیا صارفین نے اس مظاہرے کو “ماحولیاتی غفلت” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ ایک خالص اور نایاب ماحولیاتی نظام کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

مقامی حکومت نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا اور اعلان کیا کہ معاملے کو “قانون اور ضوابط کے مطابق” نمٹایا جائے گا۔ صرف ویبو پر اس خبر سے متعلق 92 ملین بار پوسٹس دیکھی گئیں۔

آرکٹریکس، جو کینیڈا میں قائم ہوا لیکن 2019 میں چینی کمپنی انٹا اسپورٹس نے خریدا، نے ویبو اور انسٹاگرام پر معافی نامہ جاری کیا۔ کمپنی نے کہا:
“یہ واقعہ ہماری اقدار کے خلاف تھا۔ ہم اس پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہیں اور معذرت خواہ ہیں۔”

برانڈ نے اعلان کیا کہ وہ ایک آزاد ماحولیاتی ادارے کو مدعو کرے گا تاکہ نقصان کی شفاف جانچ پڑتال ہو سکے اور تلافی کی جا سکے۔

کائی گواچیانگ نے بھی اعتراف کیا کہ کئی پہلوؤں کو صحیح طرح مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے ڈوئین پر لکھا کہ وہ “تمام تنقید کو عاجزی سے قبول کرتے ہیں” اور آئندہ سخت حفاظتی اقدامات کریں گے۔

چینی ریاستی میڈیا گلوبل ٹائمز نے آرکٹریکس کی معافی پر شکوک ظاہر کیے اور کہا کہ انسٹاگرام اور ویبو پر جاری بیانات میں تضاد ہے۔ کچھ صارفین نے مطالبہ کیا کہ اس مظاہرے کی منظوری دینے والے سرکاری اہلکاروں کو بھی جواب دہ بنایا جائے۔

ایک صارف نے لکھا:
“زمین کے لیے فن کا مطلب فطرت اور جانداروں کا احترام ہونا چاہیے، نہ کہ ان کے ساتھ کھیلنا۔”

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x