چین کا نیا K ویزا: عالمی ماہرین کے لیے روزگار اور تحقیق کے دروازے کھل گئے

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 1 اکتوبر 2025 سے ایک نئی ویزا کیٹیگری “K ویزا” متعارف کروا رہا ہے تاکہ دنیا بھر سے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں نوجوان اور تجربہ کار ماہرین کو اپنی طرف راغب کر سکے۔

یہ ویزا امریکی H-1B کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ امریکہ نے حال ہی میں H-1B ویزا درخواستوں پر 100,000 امریکی ڈالر سالانہ فیس عائد کی ہے، جس سے ٹیکنالوجی کارکنوں اور کمپنیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

چین کا K ویزا اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے لیے کسی مقامی کمپنی یا ادارے کی جانب سے اسپانسرشپ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے ذریعے غیر ملکی ماہرین کو نہ صرف ملازمت بلکہ تحقیق، تعلیم، کاروبار اور ثقافتی تبادلوں کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔ ویزا کی مدت، متعدد داخلے اور قیام میں بھی نرمی رکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام چین کی عالمی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیگر ممالک اپنی امیگریشن اور ویزا پالیسیوں کو سخت کر رہے ہیں۔

1
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x