عبدالجبار
نیویارک ۔۔۔۔۔۔مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک نے دعوی کیا ہے کہ اس کے اے آئی سسٹم کلائوڈ نے انسانی جسم میں ڈی این اے کے اندر ایک ایسا انزائم سسٹم دریافت کیا ہے جو پہلے نامعلوم تھا۔ اس کو کمپنی نے جینیاتی تحقیق کے لیے انقلابی ٹیکنالوجی CRISPR سے مشابہ قرار دیا ہے۔اینتھروپک کے مطابق یہ دریافت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس نظام کے حقیقی افعال اور ممکنہ طبی یا حیاتیاتی استعمال کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔کمپنی نے واضح کیا ہے کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نیا دریافت شدہ نظام CRISPR کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔CRISPR جینیاتی تحقیق اور ڈی این اے میں تبدیلی کے لیے استعمال ہونے والی ایک اہم ٹیکنالوجی ہے جس کی دریافت اور ترقی پر 2020 میں کیمسٹری کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔اس اعلان کے ساتھ اینتھروپک نے پہلی مرتبہ اپنے کیلیفورنیا میں قائم حیاتیاتی تحقیقاتی لیب کے بارے میں بھی عوامی سطح پر بتایا ہے۔