کھیتوں سے قانون تک — ایک عورت کی خاموش اپیل

صبح ابھی پوری طرح روشن بھی نہیں ہوئی تھی کہ چاچی رحیما میرے دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔ اس کی آواز میں وہی جلدی تھی جو ہر دن ہمارے ساتھ چلتی ہے۔
“جلدی کرو، آج کپاس چننی ہے، دھوپ بڑھ گئی تو کام مشکل ہو جائے گا۔”
میں نے بس جلدی سے چادر اوڑھی، بچوں کو دیکھا اور گھر سے نکل پڑی۔ یہ کوئی خاص دن نہیں بلکہ روزمرہ کی طرح میری زندگی کا ایک دن تھا۔ ہم عورتیں اکثر اکٹھی کھیتوں کی طرف جاتی ہیں۔ راستہ لمبا ہوتا ہے، مگر ہم ساتھ ہوں تو وقت آسان لگتا ہے۔ باتیں کم ہوتی ہیں، کام اور زیادہ۔
راستے میں چاچی رحیما خاموش تھی۔ پھر اچانک اس نے آہستہ سے کہا:
“پانچ سال پہلے بھی ایسے ہی موسم میں میری فصل کم ہوئی تھی…”
اس نے بتایا کہ جب پیداوار کم ہوئی تو ٹھیکیدار نے اس کی پوری محنت کے باوجود اس کی اجرت کم کر دی۔ نہ کوئی تحریری حساب تھا، نہ کوئی معاہدہ، نہ کوئی جگہ جہاں وہ سوال کر سکتی۔
“ہم بس کام کرتے ہیں بیٹی…” اس نے کہا، “ہمیں یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ جو طے ہوا تھا وہی ملے گا یا نہیں۔”
ہم ابھی یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ سکینہ ہمارے ساتھ آ ملی۔ وہ کچھ عرصہ پہلے اپنے رشتہ داروں سے ملنے سکھر گئی تھی۔ وہ اکثر وہاں کے حالات کا ذکر کرتی ہے۔
اس نے کہا:
“میں نے وہاں دیکھا ہے… کوئی ایک قانون آیا ہے — سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز ایکٹ۔ اور اب 2026 میں اس کے رولز بھی نافذ ہو چکے ہیں۔ وہاں فصلوں میں کام کرنے والی خواتین کو باقاعدہ ورکر سمجھا جاتا ہے۔ ان کا ریکارڈ ہوتا ہے، اور کچھ حقوق تک رسائی بھی دی جاتی ہے۔”
یہ سن کر ہم سب کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔ کوئی خوشی نہیں ، کوئی بحث نہیں، بس ایک خاموش سا احساس کہ کہیں ہماری ہی طرح کی عورتوں کو کم از کم “دیکھا” تو جا رہا ہے۔
ہم کھیتوں میں پہنچ گئے۔ دن شروع ہو گیا۔
کپاس چننا، دھان لگانا، جھکی ہوئی کمر کے ساتھ کام کرنا، دھوپ کا بڑھنا، ہاتھوں میں کانٹے چبھنا ، یہ سب روز کا معمول ہے۔ دوپہر میں تھوڑی دیر روٹی کھا لیتے ہیں، پھر دوبارہ کام شروع ہو جاتا ہے۔ کسی سے نہیں پوچھا جاتا کہ جسم تھک گیا ہے یا نہیں۔
شام تک جسم ٹوٹ جاتا ہے، مگر گھر واپس جا کر بھی آرام نہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال، کھانا، پانی، اگلے دن کی تیاری ۔
میں نے اپنی پوری زندگی یہی کرتے گزار دی ہے۔ میرے گاؤں کی ہر عورت یہی کرتی ہے۔ ہم کام کرتی ہیں، ہم تھکتی ہیں، ہم سب کچھ سنبھالتی ہیں — مگر ہمیں کبھی “ورکر” نہیں کہا گیا۔
نہ کوئی شناخت ہے، نہ کوئی ریکارڈ، نہ کوئی کارڈ۔ اگر ہم بیمار ہو جائیں، زخمی ہو جائیں، یا ہمیں اجرت نہ ملے تو ہمارے پاس کوئی دروازہ نہیں ہوتا جہاں ہم جا سکیں۔ یہ صرف ہماری کہانی نہیں ہے۔ یہ پنجاب کی لاکھوں خواتین کی حقیقت ہے۔ وہ خواتین جو ہر فصل کا حصہ ہیں، مگر کسی سرکاری کاغذ کا حصہ نہیں۔
میں کوئی بڑی بات نہیں مانگتی۔ نہ کوئی خاص سہولت، نہ کوئی رعایت۔ بس اتنا چاہتی ہوں کہپنجاب بھی سندھ کی طرح ایک ایسا قانونی فریم ورک متعارف کرائے، جو خواتین زرعی ورکرز کو باقاعدہ پہچان دے، ان کے حقوق کا تحفظ کرے، اور انہیں موجودہ فلاحی اور لیبر نظام سے مؤثر طریقے سے جوڑے۔ یہ کوئی نیا مطالبہ نہیں، بلکہ ایک موجودہ حقیقت کو قانون میں تسلیم کرنے کا مطالبہ ہے۔
میں آمنہ ہوں۔ میں ہر دن کام کرتی ہوں۔ میں تھکتی نہیں کیونکہ میرے پاس راستہ نہیں ہوتا۔
بس اب یہ خواہش ہے کہ میری محنت صرف کھیتوں میں نہیں، قانون میں بھی نظر آئے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x