عبدالجبار
(ساھیوال )پنجاب چیریٹی کمیشن، محکمہ داخلہ کے زیر اہتمام فریش واٹر ایکشن نیٹ ورک ساؤتھ ایشیاء، کرسٹل ویو فاؤنڈیشن، کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کونسل اور پنجاب سول سوسائٹی نیٹ ورک کے تعاون سے ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر، خانیوال، ملتان اور لودھراں اضلاع سے تعلق رکھنے والی تمام سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کے لیے ایک اہم تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد سول سوسائٹی اور حکومت کے درمیان شراکت داری اور تعاون کو فروغ دینا، اور فلاحی اداروں کو انٹرنل کنٹرول میکنزمز کے حوالے سے تربیت فراہم کرنا تھا۔
ورکشاپ میں 125 این جی اوز کے نمائندگان اور اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جہاں باہمی تعاون، ریگولیٹری فریم ورک، سماجی و معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب چیریٹی کمیشن کرنل ریٹائرڈ شہزاد امیر نے اپنے خطاب میں ادارے کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پنجاب چیریٹی کمیشن ایک ریگولیٹری ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سہولت کار پلیٹ فارم بھی ہے، جو سول سوسائٹی کو مضبوط بنانے اور حکومتی اداروں کے ساتھ مؤثر روابط قائم کرنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعتماد، شفافیت اور باہمی اشتراک ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں۔
پنجاب چیریٹیز کمیشن کے فوکل پرسن براے جنوبی پنجاب عبدالعلیم نجم نے این جی اوز اور این جی او سیکٹر کو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ جیسے درپیش خطرات اور بچاو کے حوالے پریزنٹیشن دی
دیگر مقررین محمد عبداللہ رانا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریش واٹر ایکشن نیٹ ورک ساؤتھ ایشیاء، رانا عمران صاحب، صدر کرسٹل ویو فاؤنڈیشن، آصف نواز وینس صاحب، صدر کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کونسل، شہباز حسین شاہ، کنوینیر پنجاب سول سوسائٹی نیٹ ورک، امتیاز مانگٹ صاحب، ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال ساہیوال ڈویژن، عباس چوہان صاحب، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال، پروفیسر جلیل بٹ صاحب، الویرا وقاص پنڈ سدھار سروسز اور ڈاکٹر اکرام صاحب نے اپنے اپنے اداروں کے کردار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔
ورکشاپ کے اختتام پر حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان مضبوط شراکت داری کے ذریعے چیریٹی سیکٹر کو مضبوط بنانے، انتہاپسندی، سماجی عدم استحکام اور قدرتی آفات جیسے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔