اسلام آباد ۔۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت،عدالت نے نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر کو عدم حاضری پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ عدالت نے نیب کی متفرق درخواست پر بانی پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک نیب پراسیکیوٹر کو پیش ہونے کی ہدایت کی۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگرکی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،نیب نے سزا معطلی کی درخواستوں کے خلاف متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اپیلوں پر ابھی نوٹس جاری نہیں ہوئے، سزا معطلی کی درخواستیں قابلِ سماعت نہیں ہیں،جب تک اپیلوں پر نوٹس نہیں ہوتے، سزا معطلی کی درخواست نہیں سنی جا سکتی،سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے نیب کی مزید وقت کی استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آٹھویں مرتبہ عدالت میں پیش ہو رہے ہیں نیب پراسیکیوٹر دلائل دینے سے گریز کر رہے ہیں، انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ القادر ٹرسٹ کیس ایک متنازع کیس ہے اور نو مئی کے واقعات کا آغاز بھی اسی کیس میں گرفتاری کے بعد ہوا۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کے دستخط شدہ وکالت نامے کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور چار ماہ سے وکالت نامہ دستخط کروا کر فراہم نہیں کیا جا رہا،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر کوئی بھی شخص جائے تو سپرنٹنڈنٹ جیل دستخط کروا کر دے دیتا ہے،عدالت نے سماعت کے دوران نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ عدالت نے نیب کی متفرق درخواست پر بانی پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک نیب پراسیکیوٹر کو پیش ہونے کی ہدایت کی۔