27ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش

اسلام آباد (واج نیوز ڈیسک): وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئینِ پاکستان میں 27ویں ترمیم کا مسودہ سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم ملکی سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں ’’اداراتی توازن‘‘ قائم کرنے، وفاقی و صوبائی اختیارات کی وضاحت اور اعلیٰ عدلیہ کے دائرۂ کار میں شفافیت لانے کے لیے متعارف کرائی جا رہی ہے۔

27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں آئینِ پاکستان کے 48 آرٹیکلز میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلی کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے۔ ترمیم کے مطابق صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم کی سفارش پر چیف آف ڈیفنس فورسز کا تقرر کریں گے، جبکہ وزیرِ اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی تعیناتی کریں گے۔

مزید برآں، مجوزہ ترمیم میں ججوں کی ٹرانسفر کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو دینے کی تجویز شامل ہے۔ اس عمل میں اس ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی شامل ہوں گے جس سے جج کا تبادلہ ہو رہا ہو اور اس ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی جن کے پاس جج جا رہے ہوں۔ ترمیم کے تحت بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی بھی تجویز دی گئی ہے، تاکہ صوبائی سطح پر نمائندگی کو متوازن بنایا جا سکے۔

مسودے میں یہ بھی شامل ہے کہ آئینی عدالت کے جج 68 سال کی عمر تک اپنے فرائض انجام دے سکیں گے، جبکہ فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کو تاحیات یونیفارم پہننے کی اجازت حاصل ہوگی۔

قبل ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے باکو سے منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی اور اس کا بھرپور خیرمقدم کیا۔

اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے کابینہ کے ارکان کا خیر مقدم کیا اور اتحادی جماعتوں کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ کابینہ کی منظوری کے بعد وزیرِ اعظم کی ہدایت پر وزیرِ قانون و انصاف نے میڈیا کو آئینی ترمیم کے خدوخال پر بریفنگ دی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان رشتوں کو مزید مضبوط بنانے اور قومی مفاد میں اس آئینی ترمیم پر تمام جماعتوں نے مل کر کام کیا، جس پر وزارتِ قانون و انصاف، اٹارنی جنرل اور ان کی ٹیم تحسین کی مستحق ہے۔

شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے اس حوالے سے اپنے قائد میاں محمد نواز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بھی اعتماد میں لیا، جبکہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں بلاول بھٹو زرداری، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، عبدالعلیم خان، خالد حسین مگسی، چوہدری سالک حسین، ایمل ولی خان اور اعجاز الحق سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں سے بھی مشاورت کی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کی بدولت ترقی کی سمت درست ہو چکی ہے، اور ملک کی خوشحالی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x