پلاسٹک کا بڑھتا سمندر اور پاکستان کی ماحولیاتی جنگ

پاکستان میں پلاسٹک کے ریپرز کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف گلیوں اور ندیوں کو گندا کر رہا ہے بلکہ یہ ملک کی ماحولیاتی جنگ کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والے یہ ریپرز، چپس کے پیکٹ سے لے کر شاپنگ بیگ تک، نظر آنے والی آلودگی سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ ان کا ماحولیاتی اثر ان کی پیداوار سے شروع ہو کر، کچرے کے ڈھیر تک اور یہاں تک کہ سیلاب جیسی قدرتی آفات کو بھی بدتر بنانے کا سبب بنتا ہے۔

پیداوار سے کچرے کے ڈھیر تک: ماحولیاتی اخراجات

پاکستان سالانہ تقریباً 3.3 ملین ٹن پلاسٹک فضلہ پیدا کرتا ہے جس میں سے صرف 4 فیصد باقاعدہ طور پر ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی جڑ پیکجنگ انڈسٹری میں ہے۔ پلاسٹک کی پیداوار ایک انتہائی کاربن متحرک عمل ہے جو پیٹرولیم سے شروع ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، پاکستان میں پلاسٹک کی پیداوار سے ہر سال 0.8 بلین ٹن سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہوتا ہے اور اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد 1.46 بلین ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔

جب یہ پلاسٹک ریپرز اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں تو ان کا بڑا حصہ کچرے کے ڈھیروں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے لینڈفلز میں پلاسٹک کے گلنے سے ہر سال تقریباً 14.18 Gg میتھین گیس خارج ہوتی ہے جو کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کہیں زیادہ طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے۔ اس کے علاوہ، کھلے میں جلائے جانے والے پلاسٹک سے فضا میں زہریلی گیسیں شامل ہوتی ہیں جو فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی دونوں کا سبب بنتی ہیں۔

موسمیاتی آفات کو بڑھاوا: شہری سیلاب کی مثال

پلاسٹک ریپرز کا سب سے خطرناک اور کم معروف پہلو یہ ہے کہ وہ قدرتی آفات کو مزید تباہ کن بنا رہے ہیں۔ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں، پلاسٹک کے تھیلے اور ریپرز نکاسی آب کے نظام کو بند کر دیتے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ رکاوٹیں پانی کے بہاؤ کو روکنے کا بڑا سبب تھیں، جس سے معمولی بارشیں بھی وسیع پیمانے پر تباہی کا باعث بنیں۔ یہ ایک ایسا انسانی ساختہ عنصر ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

پالیسیوں کی ناکامی اور سماجی رکاوٹیں

حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام آباد میں 2019 میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد کی گئی تھی، اور 2023 میں بھی نئے ضوابط متعارف کرائے گئے۔ تاہم حالیہ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ان پابندیوں کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا جا سکا۔ ایک سروے کے مطابق، اسلام آباد کے گھریلو کچرے کا 60فیصد اب بھی پلاسٹک کے تھیلوں پر مشتمل ہے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سخت نفاذ کی کمی، پلاسٹک کے متبادل کی غیر موجودگی اور ان کی زیادہ قیمت شامل ہے۔ عام شہریوں میں یہ تصور بھی غالب ہے کہ ماحولیاتی اقدامات ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک “عیش و عشرت” ہیں۔

انسانی قیمت: کچرا چننے والوں کا المیہ

پاکستان میں کچرا چننے والے، جن میں اکثر بچے شامل ہوتے ہیں جو پلاسٹک ری سائیکلنگ کے ایک غیر رسمی مگر اہم نظام کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ روزانہ پلاسٹک ریپرز اور فضلہ اکٹھا کر کے اپنا روزگار کماتے ہیں۔ تاہم انہیں صحت کے سنگین خطرات جیسے سانس کی بیماریوں اورجلد کی انفیکشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں نہ تو قانونی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی معاشرتی قبولیت جس سے ان کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

حل اور آگے کا راستہ

اگرچہ چیلنجز بہت زیادہ ہیں تاہم پاکستان میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مثبت اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ عالمی پلاسٹک ایکشن پارٹنرشپ (GPAP) کے تحت پاکستان نے ایک جامع ‘نیشنل ایکشن روڈ میپ’ تیار کیا ہے جس کا مقصد 2040 تک پلاسٹک کے غلط انتظام شدہ فضلے کو 75 فیصد سے زیادہ کم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ کمپنیاں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، پیپسی کو نے اپنی بوتلوں کا رنگ شفاف کر دیا ہے تاکہ انہیں ری سائیکل کرنا آسان ہو جائے۔ اسی طرح کئی مقامی کاروباری ادارے ری سائیکل شدہ پلاسٹک اور بائیو ڈیگریڈیبل مواد پر بھی کام کر رہے ہیں۔

پلاسٹک کے ریپرز کا ماحولیاتی اثر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے لیے حکومت، صنعت اور عام عوام کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ صرف سخت پالیسیوں، ذمہ دارانہ پیداوار اور شعور کی بیداری کے ذریعے ہی پاکستان اس بڑھتی ہوئی ماحولیاتی جنگ کو جیتنے کی امید رکھ سکتا ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x