فرانس نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال سمیت کئی ممالک اس صف میں شامل ہو گئے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل کیا تاکہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جا سکے، جو عالمی غم و غصے کے باوجود غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس پیش رفت کے بعد امریکہ کی مخالفت اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے سخت مؤقف کے باوجود فلسطین کے حق میں عالمی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کہا ہے کہ “فلسطینی ریاست کبھی نہیں بنے گی”، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کل جنرل اسمبلی میں خطاب کریں گے۔
ادھر غزہ میں صورتحال بدستور سنگین ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں گزشتہ روز کم از کم 50 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جس سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 65 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ غزہ کی صورتحال “ناقابل برداشت” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “دو ریاستی حل ہی اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ فلسطینی ریاست حق ہے، انعام نہیں۔ اس کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ سات اکتوبر کے حملوں یا یرغمال بنانے کا کوئی جواز نہیں، لیکن فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دینا بھی ناقابل قبول ہے۔ گوتیرش نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دو ریاستی حل کو عملی شکل دینے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ دیرپا امن قائم ہو سکے۔