انجینئیر محمد صدیق
پاکستان میں توانائی کا بحران کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ اگر ہم دس برس پیچھے جائیں تو 2013 سے 2015 کا دور ہمیں شدید بجلی شارٹ فال کی یاد دلاتا ہے۔ اس وقت نہ صرف بجلی مہنگی تھی بلکہ دستیابی بھی محدود تھی۔ حکومت کو فوری اور طویل المدتی دونوں سطحوں پر فیصلے کرنا پڑے۔ انہی حالات میں متبادل اور ماحول دوست توانائی کو فروغ دینے کے لیے نیٹ میٹرنگ اور گرین انرجی پالیسی متعارف کروائی گئی، تاکہ عوام کو بجلی پیدا کرنے کے عمل میں شریک کیا جا سکے اور قومی گرڈ پر بوجھ کم ہو۔
ابتدائی نیٹ میٹرنگ پالیسی کا بنیادی اصول یہ تھا کہ صارف سولر سسٹم لگائے، اپنی ضرورت پوری کرے اور اضافی بجلی قومی گرڈ کو دے۔ اس کے بدلے یونٹ کے بدلے یونٹ ایڈجسٹمنٹ ہوتی تھی۔ تین ماہ کے اندر اندر حساب برابر کیا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ ایک مثبت قدم تھا، مگر اس میں بھی کئی ایسی شقیں شامل تھیں جو عام صارف کے لیے مشکلات پیدا کرتی تھیں۔ مثال کے طور پر، چاہے صارف نے کم یونٹس استعمال کیے ہوں، بل مکمل ٹیرف پر بنتا تھا، جس میں تقریباً 40 روپے فی یونٹ کے علاوہ جی ایس ٹی، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، ٹی وی فیس اور دیگر ٹیکسز شامل ہوتے تھے۔
حالیہ برسوں میں حکومت نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کر دی ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق حکومت عوام سے سولر بجلی تقریباً 10 سے 11 روپے فی یونٹ میں خریدے گی، جبکہ صارف اگر بجلی استعمال کرے، دن ہو یا رات، اسے تقریباً 40 روپے فی یونٹ ادا کرنا ہوں گے، جس پر جی ایس ٹی اور دیگر چارجز بھی لاگو ہوں گے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت ایک یونٹ بجلی سستے داموں خرید کر وہی یونٹ کئی گنا مہنگا واپس بیچ رہی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: اگر ایک صارف ایک یونٹ بجلی بنا کر قومی گرڈ کو دے رہا ہے تو کیا اسے پورا ایک یونٹ واپس مل رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مختلف ٹیکسز، فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر چارجز کے باعث وہ یونٹ عملی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ یوں سولر صارف فائدے کے بجائے نقصان میں چلا جاتا ہے، جبکہ بجلی پیدا کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
حکومت کی پالیسی کا تضاد اس وقت مزید واضح ہو جاتا ہے جب ہم آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو دیکھتے ہیں۔ آئی پی پیز کو نہ صرف مہنگے نرخوں پر بجلی کی ادائیگی کی جاتی ہے بلکہ انہیں کیپیسٹی پیمنٹس بھی دی جاتی ہیں، چاہے بجلی بنے یا نہ بنے۔ ان کے لیے الگ ٹرانسمیشن لائنز بچھائی جاتی ہیں، تکنیکی عملہ رکھا جاتا ہے اور قرضے رول اوور کیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس سولر صارف نے حکومت سے کسی اضافی انفراسٹرکچر یا مالی سہولت کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ الٹا قومی گرڈ کے مسائل کم کیے۔
سولر صارف کے سسٹمز کی وجہ سے ٹرانسفارمرز پر لوڈ کم ہوا، لائن لاسز میں کمی آئی اور بجلی چوری جیسے مسائل بھی کسی حد تک کنٹرول ہوئے۔ اس کے باوجود نئی پالیسی میں سولر صارف کو سستی بجلی فراہم کرنے کے بجائے اس پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جو کسی طور بھی انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔
نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کا سب سے بڑا اور خطرناک نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ نیٹ میٹرنگ چھوڑ کر بیٹری اسٹوریج کی طرف چلے جائیں گے۔ جو صارف پہلے اضافی بجلی گرڈ کو دے رہا تھا، وہ اب وہی بجلی بیٹری میں محفوظ کرے گا اور گرڈ کو سپلائی بند کر دے گا۔ یوں قومی گرڈ کو دن کے وقت ملنے والی سستی اور صاف توانائی ختم ہو جائے گی، جس سے قومی آمدن کم ہو گی اور بجلی کا مجموعی نظام مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ نئی پالیسی کا اثر یکساں نہیں ہو گا۔ بالائی طبقہ تو بیٹری سسٹم لگا کر خود کو گرڈ سے تقریباً آزاد کر لے گا، مگر درمیانہ اور نچلا طبقہ مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دب جائے گا۔ اس طرح معاشرتی عدم مساوات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اگر حکومت واقعی گرین انرجی اور توانائی کے پائیدار نظام میں سنجیدہ ہے تو ضروری ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دیا جائے۔ یونٹ کے بدلے یونٹ کا اصول بحال کیا جائے، بیٹری اور ہائبرڈ سسٹمز کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے اور کم از کم 20 سے 30 سال کے لیے ایک واضح اور مستحکم پالیسی دی جائے، تاکہ عوام اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سولر صارف مسئلہ نہیں بلکہ حل ہے۔ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت بجلی پیدا کر کے نہ صرف اپنے اخراجات کم کیے بلکہ قومی گرڈ کو بھی سہارا دیا۔ اگر پالیسیاں عوامی مشاورت اور زمینی حقائق کے بغیر بنائی جائیں گی تو فائدہ چند مخصوص طبقات کو ہوگا اور نقصان پوری قوم کو۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم مستقبل کی توانائی پالیسی عوام کے ساتھ مل کر بنائیں گے یا ایک بار پھر مہنگی بجلی اور ناکام فیصلوں کے دائرے میں گھومتے رہیں گے؟